ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

غیر ملکی لڑکی سےاجتماعی زیادتی، میڈیکل رپورٹ میں اہم انکشافات

شاہدرہ پولیس نے مزید 6 افراد کو حراست میں لے لیا جبکہ متاثرہ لڑکی کی میڈیکل رپورٹ اور ڈیانا کی دونوں خواتین کے ہمراہ کیفے میں موجودگی کی تصاویر سٹی 42 نے حاصل کر لیں

غیر ملکی لڑکی سےاجتماعی زیادتی، میڈیکل رپورٹ میں اہم انکشافات
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

وقاص احمد, عرفان ملک:ڈیفنس کے علاقے میں غیر ملکی لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، متاثرہ لڑکی کی میڈیکل رپورٹ کی کاپی سٹی 42 نے حاصل کرلی۔

میڈیکل رپورٹ کے مطابق لڑکی کے کندھے پر دباؤ اور گھٹنے پر زخم کے نشانات پائے گئے، جبکہ جسم سے ڈی این اے سیمپل کے نمونے بھی حاصل کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں مخصوص جسمانی اعضاء پر پائے جانے والے نشانات کو بھی درج کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق میڈیکل رپورٹ کے وقت لڑکی نشے کی حالت میں تھی، جبکہ مبینہ زیادتی میں ملوث افراد کی عمریں 25 سے 30 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔

دوسری جانب شاہدرہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے دوران مزید 6 افراد کو حراست میں لے لیا، جنہیں بعد ازاں ڈیفنس سی پولیس کے حوالے کردیا گیا۔ پولیس کے مطابق زیرحراست افراد مرکزی ملزمان کے قریبی دوست ہیں اور تمام افراد کا واقعے کے ملزمان سے رابطہ رہا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ زیرحراست افراد سے مبینہ اجتماعی زیادتی اور مرکزی ملزمان سے متعلق پوچھ گچھ جاری ہے۔ موبائل فون ریکارڈ اور لوکیشنز کی مدد سے تمام افراد کو حراست میں لیا گیا۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق واقعے سے قبل ڈیانا جوہر ٹاؤن کے ایک کیفے میں اپنی پاکستانی دوستوں مسکان اور عینی کے ساتھ موجود تھی۔ سٹی 42 نے ڈیانا کی دونوں خواتین کے ہمراہ کیفے میں موجودگی کی تصاویر بھی حاصل کرلی ہیں۔

تصاویر میں ڈیانا، مسکان اور عینی کو کیفے میں بات چیت اور خوش گپیوں میں مصروف دیکھا جاسکتا ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق مسکان اور عینی نے ڈیانا کو اپنے دوستوں احمد اور محسن کے فلیٹ پر جانے کے لیے راضی کیا۔

ذرائع کے مطابق ڈیانا، مسکان اور عینی اپنی مرضی سے احمد کے فلیٹ پر پہنچیں، جہاں تینوں لڑکیوں اور تین لڑکوں نے رات گزاری۔

تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہفتے کی صبح مسکان اور عینی ڈیانا کو فلیٹ میں سوتا چھوڑ کر چلی گئیں۔

پولیس واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کر رہی ہے جبکہ زیرحراست افراد سے حاصل ہونے والی معلومات اور موبائل فون ریکارڈ کی روشنی میں مزید کارروائی جاری ہے۔