ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

عدالتی نوٹس کے بعد نظربند کی گرفتاری، ہائیکورٹ کے پولیس کے اقدام پر سخت سوالات

لاہور ہائیکورٹ کے نوٹس کے بعد نظربند کی دوسرے مقدمے میں گرفتاری، پولیس کے اقدام پر سخت سوالات

عدالتی نوٹس کے بعد نظربند کی گرفتاری، ہائیکورٹ کے پولیس کے اقدام پر سخت سوالات
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف:لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی نوٹس جاری ہونے کے فوری بعد نظربند کو دوسرے مقدمے میں گرفتار کرنے کے معاملے پر پولیس کی کارروائی پر سوالات اٹھاتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کو واقعے کی ذاتی طور پر انکوائری کا حکم دے دیا۔

جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر نے شہری بہروز خان کی درخواست پر تحریری حکم جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ نظربند کی گرفتاری کا وقت اور طریقہ کار سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ واقعات کی ترتیب بادی النظر میں پولیس کی جانب سے اختیارات سے تجاوز کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ پولیس کا طرزِ عمل ثابت ہونے کی صورت میں اسے اختیارات کا سنگین غلط استعمال قرار دیا جاسکتا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ پولیس کی رپورٹ عدالتی اعتماد کو متاثر کرتی ہے اور پہلی نظر میں یہ عدالتی کارروائی روکنے کی دانستہ کوشش معلوم ہوتی ہے۔

پولیس رپورٹ کے مطابق نظربند امیر خان کو شناختی پریڈ کے لیے جوڈیشل لاک اپ بھیجا گیا تھا، تاہم عدالت نے ایس ایچ او گجرپورہ کی رپورٹ کو ناقابلِ اعتماد قرار دے دیا۔

عدالت نے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کو ہدایت کی کہ وہ گرفتاری کے وقت، طریقہ کار اور اس سے متعلق تمام حالات کا جائزہ لے کر 30 ستمبر کو جامع رپورٹ پیش کریں۔ رپورٹ میں گرفتاری کی وجوہات بھی شامل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

عدالت نے لاء افسر کو عدالتی حکم پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔

لاہور ہائیکورٹ میں کیس کی آئندہ سماعت 30 ستمبر کو ہوگی۔