وقاص احمد:لاہور پولیس نے ڈیفنس کے علاقے میں غیر ملکی لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں دو مرکزی ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پولیس نے دونوں ملزمان تنویر اور محسن کو اتوار کی رات راوی روڈ اور سندر کے علاقوں سے گرفتار کیا۔
ڈیفنس سی پولیس نے ہفتے کے روز آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ لڑکی ڈیانا کی درخواست پر 3 نامعلوم افراد کے خلاف اجتماعی زیادتی کا مقدمہ درج کیا تھا۔
پولیس کے مطابق ڈیانا کاروباری مقصد کے لیے پاکستان آئی ہوئی تھی اور رائیونڈ روڈ کے قریب ایک گھر میں رہائش پذیر تھی۔ متاثرہ لڑکی نے پولیس کو دی گئی درخواست میں بتایا کہ دو خواتین اسے رات کے کھانے کے لیے اپنے ساتھ لے گئیں۔ تینوں ایک کیفے میں پہنچیں جہاں تین مرد بھی موجود تھے، جنہیں وہ چہرے سے شناخت کرسکتی ہے۔
درخواست کے مطابق مذکورہ افراد نے اسے اور دیگر دو خواتین کو گاڑی میں سیر کروانے کی پیشکش کی، تاہم بعد میں اسے ایک نامعلوم فلیٹ میں لے گئے۔ متاثرہ لڑکی کے مطابق وہاں ملزمان نے شراب نوشی کی اور اسے بھی کوئی نشہ آور چیز پلائی گئی، جس کے بعد وہ بے ہوش ہوگئی۔
متاثرہ لڑکی نے الزام عائد کیا کہ تینوں افراد نے اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں فلیٹ میں دوپہر 2 بجے تک بند رکھا۔ اس کے مطابق ملزمان واپس آئے اور اسے غازی انٹرچینج کے قریب چھوڑ کر فرار ہوگئے۔
متاثرہ لڑکی کے مطابق ملزمان اس کا موبائل فون اور دیگر سامان بھی ساتھ لے گئے۔ اس نے پولیس سے ملزمان کے خلاف کارروائی کی درخواست کی، جس پر ڈیفنس سی پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی۔
پولیس ذرائع کے مطابق تفتیش کے دوران دو مرکزی ملزمان تنویر اور محسن کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جبکہ تیسرے ملزم عمر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس نے واقعے کے سلسلے میں پہلے ہی دو افراد کو حراست میں لے رکھا تھا، جن میں وہ دونوں خواتین بھی شامل ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر آذری لڑکی کو کھانے کی دعوت دی تھی۔