شاہد ندیم سپرا: لیسکو صارفین پر بجلی کے بلوں کی مد میں کروڑوں روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (PPMC) کے اخراجات کی مد میں 9 کروڑ روپے کی منظوری کے لیے لیسکو نے نیپرا سے رجوع کرلیا۔
ذرائع کے مطابق پی پی ایم سی کی جانب سے لیسکو کو کروڑوں روپے کی ادائیگی کے لیے مراسلہ بھجوایا گیا تھا، جس کی روشنی میں لیسکو نے فنڈز کی منظوری کے لیے نیپرا میں درخواست دائر کی ہے۔
نیپرا سے منظوری ملنے کی صورت میں مذکورہ رقم بجلی کے بلوں کے ذریعے صارفین سے وصول کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق پی پی ایم سی میں مختلف بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے افسران کو لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہوں پر بھرتی کیا گیا ہے، جبکہ مختلف کمپنیوں سے ریٹائر ہونے والے افسران بھی پی پی ایم سی میں لاکھوں روپے تنخواہیں وصول کر رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صارفین کو بجلی کی فراہمی، بلنگ اور دیگر متعلقہ امور کی ذمہ داری پہلے ہی تقسیم کار کمپنیوں پر عائد ہے۔ اس کے باوجود پی پی ایم سی کے افسران کی بھرتیوں کے بعد ان کے اخراجات کے لیے فنڈز بھی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سے طلب کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے پی پی ایم سی میں افسران کی تعیناتی کے باعث تقسیم کار کمپنیوں پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے، جبکہ ہر سال تمام متعلقہ کمپنیوں سے سروسز کی مد میں کروڑوں روپے کے فنڈز وصول کیے جاتے ہیں۔
نیپرا کی جانب سے درخواست کی منظوری کے بعد ہی صارفین سے رقم کی وصولی کا طریقہ کار واضح ہوگا۔