ویب ڈیسک: امریکا میں 30 سال سےمقیم 73 سالہ سکھ خاتون بی بی ہرجیت کور کو امریکا سے بھارت ڈی پورٹ کر دیا گیا۔
امیگریشن کسٹم انفورسمنٹ نے انہیں ہتھکڑیاں لگا کر کیلیفورنیا سے جارجیا پہنچایا اور پھر انہیں چارٹر فلائٹ سے بھارتی پنجاب ڈی پورٹ کر دیاگیا۔
ہرجیت کور کو اپنے خاندان یا وکیل تک رسائی سے بھی انکار کر دیا گیا، ان کے وکیل دیپک اہلووالیہ نے انکشاف کیا ہے کہ ہرجیت کور کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا، وہ 30 سال سے زیادہ عرصے سے امریکا میں مقیم تھیں، کیلیفورنیا میں امیگریشن حکام نے ان کیساتھ ناقبل قبول برتائو کیا۔
کور کا کہنا تھا کہ حراست کے دوران مجھے وہ کھانا دیا گیا جو میں نہیں کھا سکتی تھی ، میں سبزی خور ہوں، لیکن مجھے گوشت پیش کیا گیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق کور مبینہ طور پر بغیر کسی دستاویزات کے رہ رہی تھیں ، وہ 1991 میں بھارت میں سیاسی شورش کی وجہ سے دو بیٹوں کے ہمراہ امریکا پہنچنے کے بعد متعدد بار پناہ کی درخواست دے چکی تھیں،2012 میں ان کی پناہ کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی، لیکن اس کے بعد سے وہ 13 سال سے زیادہ عرصے تک ہر چھ ماہ بعد سان فرانسسکو میں امیگریشن کسٹم انفورسمنٹ کو رپورٹ کرتی رہی ہے۔
کور کی گرفتاری اور ملک بدری نے سکھ برادری میں غم و غصے کی لہر پیدا کردی ہے، سکھو ں نے اسے انسانیت کے بنیادی معیار کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی انسان کے ساتھ اس طرح کا سلوک گھناؤنا اور غیر انسانی ہے۔