ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

خاتون کی عدم بازیابی کا کیس ، رپورٹ طلب

خاتون کی عدم بازیابی کا کیس ، رپورٹ طلب
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : تین سال قبل اغوا ہونے والی خاتون کی عدم بازیابی کا کیس , لاہور ہائیکورٹ نے سی پی او فیصل آباد کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے فرانزک رپورٹ طلب کرلی.

لاہور ہائیکورٹ میں تین سال قبل اغوا ہونے والی خاتون اقراء شہزادی کی عدم بازیابی کے کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے کیس کی سماعت کی، جس دوران سی پی او فیصل آباد صاحبزادہ بلال عمر عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے سی پی او فیصل آباد کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے 12 نومبر کو دوبارہ رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس نے ہدایت دی کہ فرانزک سائنس ایجنسی سے ٹیسٹ رپورٹ حاصل کر کے آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کی جائے۔سماعت کے دوران عدالت اور اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب وقاص عمر کے درمیان اہم مکالمہ ہوا۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ “کیا بنا؟” جس پر وقاص عمر نے بتایا کہ ملزم نے دفعہ 164 ض ف کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ کرایا تھا کہ اس نے مغویہ کو قتل کر دیا تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ ملزم نے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ لاش کو نالے میں پھینک دیا گیا تھا۔ پولیس نے ملزم کے بیان کے مطابق لاش کی تلاش کے لیے اقدامات کیے، تاہم لاش برآمد نہیں ہو سکی۔لاء افسر کے مطابق، نالے کے پانی، مٹی اور ریت کے نمونے حاصل کرکے ان کا تجزیہ کرایا گیا۔ ایم ایس الائیڈ ہسپتال فیصل آباد کی رپورٹ میں کہا گیا کہ “ڈیڈ باڈی گل سڑ چکی ہے اور باقیات ختم ہوچکی ہیں۔”چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ہدایت دی کہ تمام شواہد فرانزک سائنس لیبارٹری کو بھجوائے جائیں تاکہ سائنسی بنیادوں پر اس معاملے کی تصدیق کی جا سکے۔ عدالت نے کیس کی سماعت 12 نومبر تک ملتوی کر دی۔درخواست گزار سائلہ اقراء شہزادی نے اپنی والدہ نسرین بی بی کی بازیابی کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ اقراء شہزادی نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کی والدہ 16 جون 2022 کو اغوا ہوئیں اور تاحال بازیاب نہیں ہو سکیں۔

 

Ansa Awais

Content Writer