میٹروپولیٹن کارپوریشن میں فیصلہ سازی کا عمل متاثر

میٹروپولیٹن کارپوریشن میں فیصلہ سازی کا عمل متاثر


(دلشاد حسین) میٹروپولیٹن کارپوریشن میں فیصلہ سازی کا عمل شدید متاثر ہونے لگا، میٹروپولیٹن کارپوریشن زیر کنٹرول علاقوں میں کمرشل بلڈنگ پلان کی عدم منظوری سے کروڑوں کےنقصان کا انکشاف ہوا ہے، 491 کمرشل عمارتوں کے نقشوں میں سے صرف 25 منظور ہوسکے۔

سٹی فورٹی ٹو کو موصول ہونے والی پراگراس رپورٹ کے مطابق میٹروپولیٹن کارپوریشن تین ماہ میں شہر کے 9 زونز میں سے 491 کمرشل عمارتوں کے صرف 25 نقشے ہی پاس کرسکا جب کہ 466 کمرشل عمارتوں کے نقشے التوا کاشکار ہیں۔  

عزیز بھٹی زون سے کمرشل عمارتوں کے137 جمع کرائے گئے نقشوں میں سے صرف 3 پاس کیے گئے، راوی زون سے کمرشل عمارتوں کے 30 نقشے موصول ہوئے 26 مسترد جب کہ چار نقشے التواکا شکارہیں۔ سمن آباد زون سے 19 نقشے موصول ہوئے تین نقشے پاس کیے گئے جب کہ 16 زیر التوا ہیں۔

داتا گنج بخش زون سے 93 نقشے موصول ہوئے جن میں سے تین پاس جب کہ 90 زیر التوا ہیں، گلبرگ زون سے 30 نقشے موصول ہوئے لیکن ایک بھی نقشہ پاس نہیں ہوسکا۔ نشتر زون سے17 نقشے موصول ہوئے صرف ایک پاس اور 16 مسترد کردیئے گئے ہیں.

شالامار زون سے 19 نقشے موصول ہوئے لیکن ایک بھی پاس نہ ہوسکا، واہگہ زون سے 93 نقشے موصول ہوئے اور صرف ایک نقشہ پاس ہوسکا جب کہ 92 زیر التوا ہیں۔ علامہ اقبال زون سے موصول ہونے والے 53 نقشوں میں سے 14 پاس کیے گئے جب کہ 39 زیر التوا رہے۔

پراگرس رپورٹ کے مطابق گلبرگ زون، شالامار زون اور نشتر زون میں ایک بھی کمرشل عمارت کا نقشہ پاس نہیں کیا گیا جو میٹروپولیٹن کارپوریشن کی فیصلہ سازی کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔