ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ: بابر اعظم کی درخواست منظور ، مقدمہ درج کرنے کا حکم کالعدم قرار

سابق کپتان بابر اعظم پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے شادی کا جھانسہ دے کر طویل عرصے تک تعلقات قائم رکھے اور بعد میں شادی سے انکار کر دیا

لاہور ہائیکورٹ: بابر اعظم کی درخواست منظور ، مقدمہ درج کرنے کا حکم کالعدم قرار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔

ذرائع کے مطابق  عدالت نے بابر اعظم کی جانب سے دائر درخواست منظور کرتے ہوئے جسٹس آف پیس کے حکم کو غیر قانونی قرار دیا۔ یہ تحریری فیصلہ جسٹس اسجد جاوید گھرال نے جاری کیا جو 8 صفحات پر مشتمل ہے، جبکہ درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر حارث عظمت پیش ہوئے۔

تحریری فیصلے کے مطابق جسٹس آف پیس نے خاتون حمیزہ مختار کی درخواست پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ بابر اعظم نے شادی کا جھانسہ دے کر طویل عرصے تک تعلقات قائم رکھے۔

 خاتون کے مطابق یہ تعلقات تقریباً آٹھ سال تک جاری رہے اور اس دوران وہ 2015 میں حاملہ بھی ہوئیں، تاہم بعد ازاں حمل ضائع کروا دیا گیا۔ مزید یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ بابر اعظم نے ان سے بڑی رقم بھی حاصل کی اور بعد میں شادی سے انکار کر دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خاتون کے الزامات بظاہر قابلِ یقین نہیں اور آٹھ سال تک خاموش رہنا ایک غیر معمولی امر ہے، جس پر سوال اٹھتا ہے۔ عدالت کے مطابق اتنے طویل عرصے بعد سامنے آنے والے الزامات کو صرف شادی کے وعدے کی بنیاد پر درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مزید برآں ریکارڈ پر ایسا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں جو ان الزامات کی تائید کرے۔

فیصلے میں یہ بھی قرار دیا گیا کہ جسٹس آف پیس نے مناسب جانچ پڑتال کے بغیر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا، جو قانون کے مطابق نہیں تھا۔

عدالت نے فریقین کے وکلاء کے تفصیلی دلائل سننے اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد جسٹس آف پیس کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے بابر اعظم کی درخواست منظور کر لی۔