ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بی ٹو طیاروں کی ڈیگو گارشیا آمد اور ایران کی امریکہ سے بالواسطہ مذاکرات پر آمادگی

B2 bombars, Diego Garcia Air Base, CENTCOM, USA-Iran conflict, Iranian nuclear program, city42, Oman, Donald Trump's letter to Khamena ie, city42
کیپشن: ڈیگو گارشیا کے اڈے پر امریکہ کےB-2 سٹیلتھ طیاروں کی گزشتہ ڈپلائمنٹ یمن میں حوثیوں کے زیر زمین اسلحہ خانوں پر حملوں کے لئے ہوئی تھی لیکن دو دن پہلے ڈیگو گارشیا اڈے پر بی ٹو سٹیلتھ طیاروں کی آمد  کے بعد ایران کے  وزیر خٓرجہ عباس عراقچی نے امریکہ سے مذاکرات کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ بظاہر یہ ادھوری رضامندی  غیر متوقع ہے۔  (بی ٹو بمبار کی یہ تصویر گوگل سے سرچ کی گئی) 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:   ایران نے اچانک  امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کسی وسیلہ کے ذریعہ "بالواسطہ مذاکرات" کرنے  پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔  ایران کی جانب سے یہ اچانک رضامندی  ڈیگو  گارشیا کے اڈے پر امریکہ کے بی -2 بمبار صتیلتھ طیاروں کے لینڈ کرنے کی اطلاعات کے دو دن بعد آئی ہے۔

بحر ہند میں ڈیاگو گارسیا کے جزیرے پر تین C-17 اور گیارہ KC-135 کی آمد کو بعض مبصرین نے حوثیوں پر ممکنہ حملہ سے جوڑا تھا لیکن ایک قیاس یہ تھا کہ امریکہ ایران کے اندر ممکنہ طور پر اس کی ایٹمی تنصیبات پر اور اس کی اعلیٰ ترین قیادت پر حملہ کر سکتا ہے کیونکہ B-2 بمبار طیارے جو سٹیلتھ بھی ہیں حوثیوں کی تنصیبات کے لئے ضرورت سے بہت بڑا ہتھیار ہیں اور اگر مقصود زیر زمین بنکرز، زمین کی گہرائی مین پوشیدہ تنصیبات کو نشانہ بنانا ہو تو یہی ایک اپروپریئیٹ ہتھیار ہیں جو فضا میں معلق ہو کر کسی ایک ٹارگٹ پر بم گرانے کے بعد عین اسی جگہ مزید بم گرا کر زمین کی گہرائی میں موجود تنصیبات کو ڈیمیج کر سکتے ہیں۔  

آج سامنے آنے والی خبروں کے مطابق  ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کرنے کے پیگام کا مثبت جواب دے دیا ہے اور کہا ہے کہ  وہ کسی وسیلہ کے ذریعہ بالواسطہ مذاکرات کرنے کے لئے تیار ہے۔ یہ جواب وہ نہیں جس سے امریکہ کے صدر مطئین ہو سکیں کیونکہ ایران کے  ایٹمی پروگرام کے متعلق حساس نوعیت کی پیچیدہ کمیونیکیشن کسی وسیلہ کے ذریعہ نتیجہ خیز ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہو گا۔ تاہم  ایران کا یہ رسپانس خامنہ ای کی گزشتہ پوزیشن سے مکمل مختلف ہے جنہوں نے اصرار کیا تھا کہ ایران دباؤ میں مذاکرات نہین کرے گا۔ عراقچی کی رضا مندی دراصل دباؤ میں خطرناک نوعیت کے اضافہ کے بعد ہی سامنے آئی ہے۔ 

رائٹرز  نیوز ز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ  ایران نے عمان کے ذریعے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خط کا جواب بھیجا ہے۔ ٹرمپ کے خط میں خامنی ای پر زور دیا گیا تھا کہ وہ ایک نئے جوہری معاہدے تک پہنچ جائے، سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA نے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ عراقچی کے مطابق، تہران نے دباؤ میں رہتے ہوئے براہ راست مذاکرات نہ کرنے کے اپنے موقف کا اعادہ کیا، لیکن وہ بالواسطہ بات چیت کے لیے تیار ہے۔

ڈیگوگاریشا بیس پر بی 52 سٹیلتھ طیاروں کی لینڈنگ

ریاستہائے متحدہ کی فضائیہ نے بحر ہند میں اپنی سٹرکنگ طاقت میں نمایاں اضافہ کیا ہے، کیونکہ متعدد نارتھروپ B-2 اسپرٹ بمباروں کو وائٹ مین ایئر فورس بیس (AFB)، میسوری سے  بحر ہند میں واقع برطانوی علاقے ڈیاگو گارسیا میں تعینات کیا گیا ہے۔ Chagos Archipelago کا سب سے بڑا جزیرہ یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں سے تقریباً 2,300 میل کے فاصلے پر ہے۔ لیکن اس بیس سے یہ سٹیلتھ طیارے بہت کم وقت میں ایران کی میں لینڈ کے اندر تک جا کر کوئی کارروائی کر سکتے ہیں۔


سوشل میڈیا پر اوپن سورس فوجی مبصرین نے جزیرے کے فضائی اڈے پر تین C-17 اور گیارہ KC-135s کی آمد کو نوٹ کیا، جبکہ کم از کم پانچ B-2s کو بھی آتے ہوئے دیکھا گیا۔ یہ 2020 کے بعد سے اس جزیرے کی سب سے اہم امریکی فوج کا بلڈ اپ ہے  اور کئی برسوں میں B-2s کی سب سے بڑی تعیناتی ہے۔ اس سٹیلتھ طیارے کی نقل و حمل اور آپریشنز پر اخراجات دوسرے فضائی  بمبار طیاروں کی نسبت بہت زیادہ آتے ہیں۔

حوثیوں پر بی ۲ طیاروں کا گزشتہ حملہ 

ڈیاگو گارسیا پر گہری نظر رکھنے والوں کو یاد ہے کہ  امریکی فضائیہ کے B-2 اسپرٹ کو یمن میں حوثی ٹھکانوں پر حملہ کرنے کے لیے گزشتہ اکتوبر میں بھی تعینات کیا گیا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا جب B-2 اسپرٹ کو ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسند گروپ کے خلاف استعمال کیا گیا تھا ۔

وہ دراصل  2017 کے بعد کسی بھی B-2s کی پہلی جنگی تعیناتی تھی۔  اس مشن میں  B-2 بمباروں نے حوثیوں کے ان  بنکروں کو نشانہ بنایا جو جدید اور روایتی دونوں ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھ۔ اس وقت گمان تھا کہ یہاں ایران کے بھیجے ہوئے  سپر سونک بیلسٹک میزائل ہو سکتے ہین جو اس نے ممکنہ طور پر اسرائیل کو یمن سے نشانہ بنانے کے لئے یہاں ڈمپ کئے ہیں۔

 اس وقت امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اعلان کیا تھا کہ یمن میں حوثیوں کے اسلحہ کے ذخائر کو ٹارگٹ کیا گیا ہے ۔ پینٹاگون نے اس مقام کی تصدیق نہیں کی، لیکن حوثیوں کے زیرانتظام المسیرہ سیٹلائٹ نیوز چینل نے اطلاع دی کہ یمن کے دارالحکومت صنعا کے قریب فضائی حملے کیے گئے ہیں – جو 2014 سے عسکریت پسند گروپ کے کنٹرول میں ہے۔ وہی تنصیبات اور دیگر جو حوثیوں کے زیر کنٹرول ہیں، اب ممکنہ طور پر اسپرٹ کے کراس ہائرس میں ہیں!

اب بھی مبصرین کا پہلا شبہ حوثیوں کے حوالے سے ہی تھا لیکن ایران کے لیڈر خامنہ ای کے ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مذاکرات شروع کرنے کی غیر معمولی پیشکش کے بعد یہ دھمکیاں بھی سامنے آئی تھیں کہ مذاکرات نہیں تو پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔