ویب ڈیسک: پاکستانی یوٹیوبر اور وی لاگر رجب بٹ کے خلاف لاہور میں مقدمہ درج کیا گیا جس کی ایف آئی آر میں پیکا ایکٹ اور مذہبی جذبات مجروح کرنے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے اپنے بیانات سے دفعہ 295 اے اور 295 سی کی توہین کی ہے۔
اس تنازعے کے بعد رجب بٹ عمرہ کرنے مکہ مکرمہ پہنچے اور خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر ویڈیو بنائی جس میں انہیں حالتِ احرام میں معافی مانگتے ہوئے دیکھا گیا جس پر ساتھی یوٹیوبرز ان کے حق میں سامنے آ گئے۔
معروف یو ٹیوبر ڈکی بھائی نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رجب بٹ نے اسلام کے خلاف کچھ نہیں کہا ان پر جھوٹے الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ وہ بیرون ملک چلا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جعلی اسلامی کارڈ محض ڈرامے بازی ہے، جو لوگ رجب بٹ کو قتل کرنے کا ٹرینڈ چلا رہے ہیں یہ عاشق رسول ﷺ نہیں ہیں۔ ڈکی بھائی نے کہا کہ اسلام ہمیں شائستگی کا درس دیتا ہے، اسلام میں ایسا کہیں نہیں لکھا کہ آپ الزام لگا کے دوسرے شخص کی زندگی تباہ کر دیں۔
ڈکی بھائی نے مزید کہا کہ اللہ نے رجب بٹ کو شاید اتنا گناہ نہ دیا ہو جتنا لوگوں نے ان کو دے دیا ہے۔ انہوں نے رجب بٹ کے اظہار یکجہتی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں ایسی کوئی نوبت ہی نہ آئے کہ آپ کو پاکستان میں ڈر کر رہنا پڑے یا بیرون ملک منتقل ہونا پڑے۔
واضح رہے کہ رجب بٹ نے اپنے بیانات پر خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر کہا تھا کہ ’میری جان، مال، والدین، اولاد اور خون کا ایک ایک قطرہ نبی پاک ﷺ پر قربان ہے۔ میں حلف لے کر کہتا ہوں کہ میں نے کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں کیا‘۔
انہوں نے کہا کہ ’مجھ سے جو بھی لا علمی میں ہوا اس کے لیے پہلے بھی معذرت کی تھی اور ایک بار پھر آپ سب سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں کہ اپنے دلوں کو میرے لیے صاف کر لیں‘۔
رجب بٹ نے کہا کہ ’میری تمام علمائے کرام، حکومت پنجاب اور پاک فوج سے گزارش ہے کہ اس معاملے پر نظر ثانی کی جائے اور مجھے انصاف دلوایا جائے‘۔