ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان رینجرز سندھ کیمپ حملے میں ملوث زخمی دہشت گرد کے ہوشربا انکشافات

پاکستان رینجرز سندھ کیمپ حملے میں ملوث زخمی دہشت گرد کے ہوشربا انکشافات
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

احمد منصور: پاکستان رینجرز کیمپ پر بزدلانہ حملے میں ملوث دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کے پس پردہ افغان طالبان رجیم کے شواہد سامنے آ گئے۔

بزدلانہ حملے میں ملوث دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کے دہشت گرد نے انکشاف کیا کہ میرا نام عثمان علی ہے اور میں افغانستان کے علاقے جلال آباد سے آیا ہوں،میرے ساتھ 3 اور ساتھی بھی تھے جن کا نام عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق تھا،میرے ساتھ آنے والا دہشتگرد عبدالہادی مارا جا چکا ہے ،دہشت گرد جانان نے پاکستان رینجرز کے کیمپ پر بم پھینکا تھا۔ 

  گرفتار دہشت گرد عثمان اپنے بیان میں کہا کہ ہم لوگ سات دن قبل پاکستان آئے تھے عبدالہادی کے پاس جو باجوڑ کا رہائشی تھا،ہمیں زیر تعمیر بلڈنگ میں رکھا گیا تھا، حملے میں استعمال ہونے والا اسلحہ عبدالہادی وزیرستان سے لایا تھا، دوسری طرف جانے کے لیے جب میں بھاگ رہا تھا تو مجھے گولی لگ گئی اور میں وہیں گر گیا،میرا تعلق جماعت الاحرار سے ہے جس کے افغانستان میں کمانڈر کا نام احرار مولوی صاحب ہے، ہم سب کو افغانستان میں تربیت دی گئی تھی مجھے صرف جیکٹ دی گئی تھی خود کش ہم خود تیار کر لیتے ہیں۔

 گرفتار دہشت گرد کا کہنا تھا کہ ہم سب خود کش جیکٹ تیار کر لیتے ہیں ہمیں افغانستان میں پہلے سے تربیت دی گئی تھی،افغانستان میں خود کش جیکٹ اور دیگر ٹریننگ عمر قاری نے دی تھی ،کراچی آنے سے پہلے ہمارے لیےافغانستان سے سب انتظامات ہو گئے تھے، یہاں سب جانتا تھا۔پہلے بھی یہاں آیا تھا،پہلے ہمیں فوج اور رینجرز میں فرق معلوم نہیں تھا، پھر یہاں آ کر رینجرز سے واقف ہوئے اور ہمیں یہ بتایا گیا کہ یہ سب کافر ہیں۔ 

 دوسری جانب  دفاعی ماہرین کے مطابق  افغان طالبان رجیم افغانستان کی سرزمین کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بنا کر پاکستان کیخلاف استعمال کر رہی ہے، اس سے قبل بھی پاکستان متعدد بار افغان طالبان رجیم کو سرحد پار دہشتگردی کے ناقابل تردید شواہد پیش کر چکا ہے۔