سٹی 42 : خیبر پختونخوا اسمبلی نے مالی سال 27-2026 کا ضمنی بجٹ کثرتِ رائے سے منظور کر لیا ہے.
خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس اسپیکربابرسلیم سواتی کی زیر صدارت ہوا صوبائی وزیر خزانہ آفتاب عالم اور دیگر وزراء نے متعلقہ محکموں کے مطالبات زر ایوان میں پیش کئے۔
صوبائی وزیر قانون وخزانہ آفتاب عالم نے رواں مالی سال کے توثیق شدہ جدول اسمبلی میں پیش کیا. جاری اخراجات کی مد میں 50 ارب 49 لاکھ روپے جبکہ 71 ارب 73 کروڑ روپے ترقیاتی بجٹ پر خرچ کئے گئے ہیں. ریلیف کی مد میں 7 ارب 35 کروڑ روپے منظور ہوئے. اس کے علاوہ 3 اہم محکموں (جنرل ایڈمنسٹریشن، صوبائی اسمبلی، اور فنانس، ٹریژریز اینڈ لوکل فنڈ آڈٹ) کے لیے 30 ارب روپے سے زائد کی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دی ۔
صوبائی اسمبلی نے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) میں مجوزہ ترامیم کو بھی منظور کر لیا ہے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں مالاکنڈ ڈویژن اور قبائلی اضلاع میں ٹیکس کے نفاذ کیخلاف قرارداد منظور کرلی۔ قرارداد میں وفاق سے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس سمیت نئے بجٹ میں عائد تمام ٹیکس فوری واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ترقیاتی وعدے پورے اور پسماندہ علاقوں کو ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانے تک نئے ٹیکس نافذ نہ کیے جائیں۔
خیبر پختونخوا اسمبلی نے سالانہ بجٹ کے بعد ضمنی بجٹ بھی بلڈوز کردیا ۔ اپوزیشن کی تمام تخفیف زر کی تحاریک مسترد کردی گئیں۔
مالی سال کے لئے 121 ارب روپے کے اضافی اخراجات پر مشتمل ضمنی بجٹ کی منظوری دے دی۔ اپوزیشن نے کٹوتی کی تحاریک کی اجازت نہ ملنے پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔