سٹی42: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی 'اگلے ہفتے میں' ہو جائے گی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ غزہ میں "اگلے ہفتے کے اندر جنگ بندی" ہو جائے گی۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کو محفوظ بنانے کی کوششوں میں شامل کچھ لوگوں سے ابھی بات کی ہے۔
ٹرمپ نے تو اتناہی بتایا البتہ امریکہ کی نیوز آؤٹ لیٹ سی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ حماس کا کہنا ہے کہ وہ سیز فائر کے لئے تیار ہے۔امریکہ کی حمیت سے ہو رہی اس سیز فائر ڈیل میں اسرائیل کے مزید یرغمالیوں کو رہا کرنا شامل ہے۔
اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کے حوالے سے دو دن پہلے کی اسرائیل ہیوم کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ وہ دو ہفتوں میں غزہ کی جنگ بند کرنے جا رہے ہیں، اس کے بعد آج صدر ٹرمپ نے اپنے اوول آفس میں صحافیوں کو اعتماد کے ساتھ بتایا کہ غزہ جنگ ایک ہفتے میں بند ہونے جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے مذاکرات سے واقف کچھ لوگوں سے اپنی کمیونیکیشن کا حوالہ دیا لیکن تفصیل نہیں بتائی۔ دو دن کے بعد پہلی مرتبہ حماس کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ جنگ بندی پر رضا مند ہے۔ اس مختصر انفارمیشن میں حماس کی جانب سےکوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔ جنوری میں جنگ بندی ٹوٹنے کے بعد سے کئی ماہ کے دوران حماس کی طرف سے یہ تو کہا جاتا رہا ہے کہ وہ جنگ بندی پر رضا مند ہے لیکن حماس کی غزہ میں اپنا ہولڈ برقرار رکھنے کی شرطوں کی موجودگی میں جنگ بندی عملاً اب تک ایک خواب ہی ہے۔