ویب ڈیسک: امریکا اور اسرائیل کے اچانک حملے کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔
ایرانی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایران سخت ردعمل کے لیے تیاریاں کر رہا ہے اور اب حملوں کا اختتام ایرانی اختیار میں نہیں رہا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران میں ایرانی صدارتی محل اور سپریم لیڈر خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے قریب 7 میزائل گرے ہیں، جبکہ یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوری ایریا سمیت تہران کے مضافات میں بھی متعدد اسرائیلی میزائل گرے اور دھویں کے گہرے بادل اٹھےجبکہ افراتفری کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے یورینیم کی افزودگی نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا، اور وہ مذاکرات میں ایران کے مؤقف سے مطمئن نہیں تھے۔