ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی

عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں جمعہ کے روز معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کی جیکسن ہول سمپوزیم میں ہونے والی اہم تقریر کے منتظر ہیں، جسے امریکی شرحِ سود کی آئندہ سمت کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد کمی کے بعد 4,576.30 ڈالر فی اونس ہوگئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز کی قیمت بھی 0.8 فیصد گھٹ کر 4,629 ڈالر فی اونس پر آگئی۔

رپورٹس کے مطابق سونے کی قیمت رواں ہفتے کے آغاز میں تین ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی، تاہم امریکی مانیٹری پالیسی اور مستقبل کی شرحِ سود سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار اب محتاط انداز اختیار کیے ہوئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش اپنی تقریر میں سخت مالیاتی پالیسی برقرار رکھنے یا شرحِ سود بلند رکھنے کا عندیہ دیتے ہیں تو سونے کی قیمت پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ بلند شرحِ سود کے دوران سونا سرمایہ کاروں کے لیے نسبتاً کم پرکشش ہوجاتا ہے، کیونکہ اس سے کسی قسم کی باقاعدہ ییلڈ حاصل نہیں ہوتی۔

امریکی معیشت میں مہنگائی کی صورتحال بھی فیڈرل ریزرو کے لیے اہم چیلنج بنی ہوئی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی تک 12 ماہ کے دوران فیڈ کا اہم افراطِ زر پیمانہ 3.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث شرحِ سود میں آئندہ تبدیلیوں کے حوالے سے مارکیٹ میں بے یقینی برقرار ہے۔

اب سرمایہ کاروں کی توجہ جیکسن ہول سمپوزیم میں کیون وارش کے خطاب پر مرکوز ہے، جس سے امریکی شرحِ سود اور مالیاتی پالیسی کے مستقبل کے بارے میں واضح اشارے ملنے کی توقع کی جارہی ہے۔

دوسری جانب تجزیہ کاروں کے مطابق طویل مدت میں سونے کی قیمت کو سہارا دینے والے کئی عوامل موجود ہیں۔ ان میں گولڈ ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز اور فیوچرز میں سرمایہ کاروں کی بڑھتی دلچسپی، امریکی مالیاتی نظام سے متعلق خدشات اور دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی مسلسل خریداری نمایاں عوامل ہیں۔

قیمتی دھاتوں کی دیگر اقسام میں بھی جمعہ کو منفی رجحان دیکھا گیا۔ چاندی کی قیمت ایک فیصد کم ہوکر 68.54 ڈالر فی اونس ہوگئی، جبکہ پیلیڈیم 0.8 فیصد کمی کے بعد 1,339.84 ڈالر فی اونس پر آگیا۔ پلاٹینم کی قیمت میں بھی 0.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ ہفتہ وار بنیاد پر خسارے کی جانب بڑھ رہا ہے۔

اگرچہ قلیل مدت میں سونے کی قیمت میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے، تاہم بعض ماہرین اب بھی اس امکان کو برقرار رکھے ہوئے ہیں کہ عالمی مارکیٹ میں سونا مستقبل میں 5 ہزار ڈالر فی اونس کی سطح عبور کرنے کی سمت بڑھ سکتا ہے۔