ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب اسمبلی کا بڑا فیصلہ، آبادی کنٹرول قرارداد منظور

پنجاب اسمبلی کا بڑا فیصلہ، آبادی کنٹرول قرارداد منظور
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

راؤ دلشاد:  تیزی سے بڑھتی آبادی پر قابو اور وسائل کے بچاؤ کیلئے قرارداد اپوزیشن کی عدم موجودگی میں پنجاب اسمبلی سے متفقہ طور پر منظورکر لی گئی۔

 قرارداد حکومتی رکن احسن رضا خان نے ایوان میں پیش کی،قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ اس ایوان کی رائے ہے کہ ملک بھر میں آبادی میں تیز رفتاری سے اضافہ ہو رہا ہے،  اس کے باعث قدرتی وسائل، روز گار کے مواقع، تعلیمی و طبی سہولیات اور بنیادی ڈھانچے پر شدید در باؤ پڑ رہا ہے، وسائل محدود ہونے کے باعث غربت، بے روز گاری، ماحولیاتی آلودگی پانی کی قلت اور سماجی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، صوبہ بھر میں مؤثر اور مربوط آبادی مینجمنٹ پالیسی تشکیل دی جائے اور خاندانی منصوبہ بندی کے پروگراموں کو مزید فعال بنایا جائے۔

 قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ خواتین کی تعلیم ، صحت اور معاشی خود مختاری کو فروغ دینے کے لیے خصوصی فنڈ ز اور پروگرامز متعارف کرائے جائیں، بنیادی مراکز صحت میں زچہ و بچہ کی سہولیات اور خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات کو یقینی بنایا جائے، پانی، زرعی اراضی اور توانائی کے مؤثر اور کفایتی استعمال کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور قوانین نافذ کیے جائیں، نوجوانوں کیلئے فنی تربیت ، صنعتوں کے قیام اور کاروباری سہولیات کی فراہمی کے ذریعے روز گار کے مواقع میں اضافہ کیا جائے، ماحولیاتی تحفظ ، شجر کاری اور آبی ذخائر کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی اور عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

 احسن رضا خان کاکہناتھا کہ وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے ایک جامع قومی حکمت عملی مرتب کی جائے تا کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جاسکیں، ان نکات پر عملدرآمد کے لیے واضح ٹائم لائن اور بجٹ مختص کیا جائے تا کہ عملی نتائج حاصل کیے جاسکیں، مذکورہ بالا اقدامات پر عملدرآمد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی جائے جو ششماہی بنیادوں پر ایوان کو رپورٹ پیش کرے۔

 قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان، حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب سے سفارش کرتا ہے کہ ایک جامع ، قابل عمل اور وقتاً فوقتاً جائزہ لینے والا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے،  تا کہ آئندہ نسلوں کے لیے وسائل محفوظ بنائے جا سکیں اور پائیدار ترقی کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔