ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ 9 مئی کے مقدمات میں پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید کی سزاؤں کی معطلی کے لیے دائر درخواستیں مسترد کردیں ۔
جسٹس سید شہباز علی رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں اعجاز چوہدری اور میاں محمود رشید کی سزا معطلی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی،سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ شواہد اور قانونی تقاضوں کے برعکس ہے، اس لیے استدعا ہے کہ سزاؤں کو معطل کیا جائے۔ وکلا نے یہ بھی نشاندہی کی کہ دونوں رہنماؤں نے اپنی سزاؤں کے خلاف اپیلیں دائر کر رکھی ہیں جو زیر التوا ہیں، لہٰذا اپیلوں کے حتمی فیصلے تک سزا معطل کی جانی چاہیے۔دوسری جانب پنجاب حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل محمد فرخ خان لودھی نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر دیا گیا ہے اور اس مرحلے پر سزا معطل کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ سپیشل پراسیکیوٹر منیر احمد بھٹی نے بھی استدعا کی کہ درخواستیں مسترد کی جائیں۔
فریقین کے وکلا کے حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے سناتے ہوئے دونوں درخواستیں خارج کر دی گئیں۔واضح رہے کہ سانحہ 9 مئی کے مقدمات میں انسداد دہشت گردی عدالت نے اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید کو دس، دس سال قید کی سزائیں سنائی تھیں۔