ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پائیدار معاشی ترقی کے حصول کیلئے اصلاحات ناگزیر ہیں :وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

پائیدار معاشی ترقی کے حصول کیلئے اصلاحات ناگزیر ہیں :وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42:  وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے،پائیدار معاشی استحکام کی جانب سفر جاری ہے،پائیدار معاشی ترقی کے حصول کیلئے اصلاحات ناگزیر ہیں ۔

  محمد اورنگزیب  نے پاکستان یورپی یونین بزنس فورم سے خطاب  کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں۔

 انہوں نے بتایا کہ مارچ کے دوران مجموعی ترسیلات 3.8 ارب امریکی ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جبکہ معمول کے مطابق ماہانہ ترسیلات کا حجم 3.2 ارب امریکی ڈالر ہے، رمضان اور عید کے باعث ترسیلات میں اضافہ ہوا۔

  انہوں نے کہا کہ  روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے مارچ میں 260 ملین امریکی ڈالر موصول ہوئے، جبکہ اپریل میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

 محمد اورنگزیب نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں ماہانہ 180 سے 200 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور بیرون ملک پاکستانیوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سے رقم نکالنے کے لیے اسٹیٹ بینک کی منظوری لازم نہیں ہے۔

 وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال میں معاشی شرح نمو 4 فیصد تک رہنے کا امکان ہے جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگی مقررہ ہدف سے کم رہے گی، یورو بانڈز کی ادائیگی مکمل کر دی گئی ہے جبکہ ایک اور پارٹنر کو بھی اسی مہینے ادائیگی کی گئی ہے۔

 محمد اورنگزیب کے مطابق حکومت نجکاری پروگرام کو آگے بڑھا رہی ہے اور پی آئی اے کی کامیاب نجکاری کی گئی ہے، لاہور اور اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹس کی نجکاری کو ہنگامی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا۔

 انہوں نے مزید کہا کہ بڑے کاروباری گروپس کنسورشیم کی شکل میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں، ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کی تنظیم نو کی گئی ہے جبکہ پنشن نظام میں اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، آئندہ سال سے مسلح افواج کا کنٹری بیوٹری پنشن نظام شروع ہوگا۔

 وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان میں تقریباً 4 کروڑ کرپٹو صارفین موجود ہیں اور اس شعبے کے لیے ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرا دیا گیا ہے، کرپٹو ایکسچینجز کو لائسنس جاری کیے جا رہے ہیں جبکہ ٹوکنائزیشن کا نظام بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ جون تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو معیشت کے استحکام کی جانب اہم پیش رفت ہے۔