ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

گرینڈ ہیلتھ کے مظاہرین نے قینچیوں، سرنجوں سے پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا

وزیراعلیٰ ہاؤس کے گیٹ کو توڑنے کی کوشش کرنے والے مظاہرین نے ہڑتال اور ہسپتالوں کی او پی ڈیز بند کرنے کی بات کی۔ فیصل کامران نے  کہا کہ  ہسپتالوں کی او پی ڈیز بند کرنے سے نقصان ہمارے اپنے شہریوں کا ہو گا

 گرینڈ ہیلتھ کے مظاہرین نے قینچیوں، سرنجوں سے پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

اسرار خان:  لاہور میں چیف منسٹر ہاؤس کے سامنے جمع ہونے والے  ہجوم نے سرکاری املاک کو نقصٓن پہنچانے کی کوشش کی، گیٹ توڑنے کی کوشش کی، یہ مظاہرین قینچیوں، انگیکشن لگانے والی سرنجوں اور دیگر آلات سے پولیس پر حملہ آور ہوئے۔ انہوں نے پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا، متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔

لاہور پولیس کے ڈی آئی جی فیصل کامران نے آج شام وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے "گرینڈ ہیلتھ الائنس" کے لیڈروں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان تصادم کے حوالے سے حقائق کی وضاحت کرتے ہوئے بتائیں۔ 

ڈی آئی جی آپریشنزفیصل کامران نے  ڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ  وزیراعلیٰ ہاؤس کے گیٹ کو توڑنے کی کوشش کرنے والے مظاہرین نے ہڑتال اور ہسپتالوں کی او پی ڈیز بند کرنے کی بات کی۔ فیصل کامران نے  کہا کہ  ہسپتالوں کی او پی ڈیز بند کرنے سے نقصان ہمارے اپنے شہریوں کا ہو گا۔

مظاہرین کو گیٹ توڑنے اور ہائی سکیورٹی زون میں داخل سے روکا گیا ان کاموں سے کسی کو بھی روکنا پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی ہے۔۔ 
مظاہرین کو سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سے منع کیا گیا۔
ان مظاہرین نے قینچیوں، سرنجر اور دیگر آلات سے پولیس پر حملے کئے۔ ان لوگوں نے پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا، متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔

فیصل کامران نے بتایا کہ اس احتجاج میں عورتوں کو ڈھال بنا کر پولیس پر تشدد کیا جا رہا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل سیزن ٹین ہو رہا ہے۔ اس اہم ایونٹ میں کھیلنے کے لئے آئی ہوئی  کرکٹ ٹیمیں اور غیر ملکی کھلاڑی چند قدم کے فاصلے پر رہائش پذیر ہیں۔  سکیورٹی کا سنگین مسئلہ ]یدا کرنے کی کوشش کی گئی۔

ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ  مظاہرین کے تشدد اور مسلسل اشتعال انگیزی کے باوجود پولیس کو تشدد سے مکمل گریز کرنے کے احکامات دیئے گئے۔