سٹی42: اہم ایرانی بندرگاہ بندر عباس پر کیمیکل مواد کے ذخیرے میں کل ہونے والے دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد کم از کم 40 ہو گئی جب کہ 1,000 سے زیادہ زخمی ہو ئے، حکام نے اتوار کو بتایا کہ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور سے منسلک ایک فرد نے مبینہ طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دھماکہ میزائل ایندھن بنانے کے لیے استعمال ہونے والے کیمیکل کی چین سے آنے والی کنسائنمنٹ میں ہوا تھا۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی رات تک راجائی بندرگاہ کے مختلف علاقوں میں آگ بھڑکتی رہی، ہیلی کاپٹروں اور فائر فائٹرز نے انہیں بجھانے کی کوششیں جاری رکھیں۔
ایران کی وزارت صحت نے صوبہ ہرمزگان کے رہائشیوں پر زور دیا ہے، "مزید اطلاع تک" باہر جانے سے گریز کریں اور حفاظتی ماسک استعمال کریں۔
بندرگاہ کے کسٹم آفس نے سرکاری ٹیلی ویژن کے ذریعے ایک بیان میں کہا کہ ممکنہ طور پر دھماکہ خطرناک اور کیمیائی مواد کے ذخیرہ کرنے والے ڈپو میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں ہوا۔ ایک ہنگامی امداد کے اہلکار نے بتایا کہ کئی کنٹینرز پھٹ گئے۔
نیویارک ٹائمز نے ایران کی IRGC سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کا حوالہ دیا، جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سیکورٹی کے معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سوڈیم پرکلوریٹ Sodium Per Chlorate کا ذخیرہ پھٹ گیا تھا۔ یہ مرکب میزائلوں کے لیے ٹھوس ایندھن کا ایک اہم جزو ہے۔
ہفتے کے روز ایک نجی سیکیورٹی فرم ایمبری نے کہا تھا کہ بندرگاہ پر مارچ میں کیمیکل کی کھیپ لائی گئی تھی۔ یہ ایندھن چین سے ایران کو دو بحری جہازوں کے ذریعے بھیجی جانے والی کھیپ کا حصہ تھا، جس کی اطلاع پہلی بار جنوری میں فنانشل ٹائمز نے دی تھی۔
یہ واضح نہیں تھا کہ ایران نے بندرگاہ سے کیمیکل کیوں منتقل نہیں کیے ہوں گے، خاص طور پر 2020 میں بیروت بندرگاہ کے دھماکے کے بعد۔ بیروت پورٹ کا دھماکہ، سینکڑوں ٹن انتہائی دھماکہ خیز امونیم نائٹریٹ کے اگنیشن کی وجہ سے ہوا، جس میں 200 سے زائد افراد ہلاک اور 6,000 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
اکتوبر میں اسرائیل میں بڑے پیمانے پر ایرانی میزائل بیراج کے جواب میں اسرائیل نے ایران کی میزائل سائٹس کو نشانہ بنایا تھا جہاں ایران ٹھوس ایندھن بنانے کے لیے صنعتی مکسرز کا استعمال کرتا ہے۔
اسرائیل کا پورٹ بلاسٹ سے لاتعلقی کا اعلان
اسرائیل کے عبرانی میڈیا نے ہفتے کے روز ایک اسرائیلی اہلکار کے حوالے سے بتایا تھا کہ بندرگاہ پر ہونے والے دھماکے میں اسرائیل کا کوئی کردار نہیں تھا۔

ایرانی حکام نے پورٹ بلاسٹ کے بعد صوبے بھر میں تین دن کے عوامی سوگ کا اعلان کیا، اور سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ بندر عباس کے صوبائی دارالحکومت کے دفاتر میں موجود تمام اسکولوں کو بند کرنے کا حکم دیا گیا، تاکہ حکام کو ہنگامی کوششوں پر توجہ مرکوز کرنے میں آسانی رہے۔
ایران کی یہ بندرگاہ آبنائے ہرمز پر واقع ہے، جہاں سے دنیا کی تیل کی پیداوار کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
یہ دھماکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹ کوف کے ہفتے کے روز عمان میں ہونے والے جوہری مذاکرات کے تیسرے دور کے شروع ہونے کے فوراً بعد ہوا ہے۔









