ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایرانی پورٹ پر آگ میزائل ایندھن کے مواد میں لگی،  جاں بحق افراد کی تعداد  40 ہو گئی

 City42, Irani Port Blast, Bandar Abbas blast, Iran Blast
کیپشن: ایران کی بندرگاہ پر لگی آگ آج رات تک کنترول نہیں ہو سکی۔ کیمیکل گودام میں دھماکوں سے لگنے والی آگ سے چالس افراد جاں بحق ہو چکے ہین اور زخمیوں کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے۔

سٹی42:  اہم ایرانی بندرگاہ بندر عباس پر کیمیکل مواد کے ذخیرے میں کل ہونے والے دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد کم از کم 40 ہو گئی جب کہ 1,000 سے زیادہ زخمی ہو ئے، حکام نے اتوار کو بتایا کہ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور سے منسلک ایک فرد نے مبینہ طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دھماکہ میزائل ایندھن بنانے کے لیے استعمال ہونے والے کیمیکل کی چین سے آنے والی کنسائنمنٹ میں ہوا تھا۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی رات تک راجائی بندرگاہ کے مختلف علاقوں میں آگ بھڑکتی رہی، ہیلی کاپٹروں اور فائر فائٹرز نے انہیں بجھانے کی کوششیں جاری رکھیں۔

ایران کی وزارت صحت نے صوبہ ہرمزگان کے رہائشیوں پر زور دیا ہے، "مزید اطلاع تک" باہر جانے سے گریز کریں اور حفاظتی ماسک استعمال کریں۔

بندرگاہ کے کسٹم آفس نے سرکاری ٹیلی ویژن کے ذریعے  ایک بیان میں کہا کہ ممکنہ طور پر دھماکہ خطرناک اور کیمیائی مواد کے ذخیرہ کرنے والے ڈپو میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں ہوا۔ ایک  ہنگامی امداد کے اہلکار نے بتایا کہ کئی کنٹینرز پھٹ گئے۔

نیویارک ٹائمز نے ایران کی IRGC سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کا حوالہ دیا، جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سیکورٹی کے معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سوڈیم پرکلوریٹ   Sodium Per Chlorate کا ذخیرہ  پھٹ گیا تھا۔ یہ مرکب میزائلوں کے لیے ٹھوس ایندھن کا ایک اہم جزو ہے۔

ہفتے کے روز ایک  نجی سیکیورٹی فرم ایمبری نے کہا تھا کہ بندرگاہ پر  مارچ میں کیمیکل کی کھیپ لائی گئی تھی۔ یہ ایندھن چین سے ایران کو دو بحری جہازوں کے ذریعے بھیجی جانے والی کھیپ کا حصہ تھا، جس کی اطلاع پہلی بار جنوری میں فنانشل ٹائمز نے دی تھی۔

Caption آج 27 اپریل 2025 کو ایرانی ہلال احمر (RCS) کی طرف سے فراہم کردہ ایک ہینڈ آؤٹ تصویر، ایرانی صوبے ہرمزگان (ایرانی ہلال احمر / AFP) میں بندر عباس کے جنوب مغرب میں شاہد راجائی بندرگاہ گودی پر ایک دن قبل ہونے والے دھماکے کے مقام پر ہونے والی تباہی کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ واضح نہیں تھا کہ ایران نے بندرگاہ سے کیمیکل کیوں منتقل نہیں کیے ہوں گے، خاص طور پر 2020 میں بیروت بندرگاہ کے دھماکے کے بعد۔ بیروت پورٹ کا  دھماکہ، سینکڑوں ٹن انتہائی دھماکہ خیز امونیم نائٹریٹ کے اگنیشن کی وجہ سے ہوا، جس میں 200 سے زائد افراد ہلاک اور 6,000 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

اکتوبر میں اسرائیل میں بڑے پیمانے پر ایرانی میزائل بیراج کے جواب میں اسرائیل نے ایران کی میزائل سائٹس کو نشانہ بنایا  تھا جہاں ایران ٹھوس ایندھن بنانے کے لیے صنعتی مکسرز کا استعمال کرتا ہے۔ 

اسرائیل کا پورٹ بلاسٹ سے لاتعلقی کا اعلان

اسرائیل کے عبرانی میڈیا نے ہفتے کے روز ایک اسرائیلی اہلکار کے حوالے سے بتایا تھا کہ بندرگاہ پر ہونے والے دھماکے میں اسرائیل کا کوئی کردار نہیں تھا۔

Caption اتوار 27 اپریل 2025 کو ایرانی ہلال احمر (RCS) کی طرف سے فراہم کردہ ایک ہینڈ آؤٹ تصویر میں امدادی کارکنوں کو ایک دھماکے کے مقام پر کام کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو ایک دن قبل ایرانی صوبے ہرمزگان میں بندر عباس کے جنوب مغرب میں واقع شاہد رجائی بندرگاہ پر ہوا تھا۔ (ایرانی ہلال احمر/ اے ایف پی)

ایرانی حکام نے  پورٹ بلاسٹ کے بعد صوبے بھر میں تین دن کے عوامی سوگ کا اعلان کیا، اور سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ بندر عباس کے صوبائی دارالحکومت کے دفاتر میں موجود تمام اسکولوں کو بند کرنے کا حکم دیا گیا، تاکہ حکام کو ہنگامی کوششوں پر توجہ مرکوز کرنے  میں آسانی رہے۔ 

ایران کی یہ بندرگاہ آبنائے ہرمز پر واقع ہے، جہاں سے دنیا کی تیل کی پیداوار کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔

یہ دھماکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹ کوف کے ہفتے کے روز عمان میں ہونے والے جوہری مذاکرات کے تیسرے دور کے شروع ہونے کے فوراً بعد ہوا ہے۔

Caption امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ آگ پر قابو پا چکتے ہیں تو یہ پھر سے بھڑک جاتی ہے۔  بندرگاہ پر مخصوص سامان کے ذخیرہ میں لگنے والی اس آگ سے کئی  گودام متاثر ہوئے۔ اس سکرین شوٹ میں  ایرانی ہلال احمر کی امدادی ٹیموں کو 26 اپریل 2025 کو دیر گئے ایرانی صوبے ہرمزگان میں بندر عباس کے جنوب مغرب میں واقع شاہد رجائی بندرگاہ پر ایک دھماکے کے مقام پر دکھایا گیا ہے۔ (ایرانی ہلال احمر / اے ایف پی)