ہفتہ،اتوار دکانیں مکمل بند؛دودھ فروش میدان میں آگئے

ہفتہ،اتوار دکانیں مکمل بند؛دودھ فروش میدان میں آگئے
کیپشن: Milk Sellers
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(راؤدلشاد)شہر میں لاک ڈاؤن کی سختی کے بعد دودھ کی دکانیں بھی شام چھ بجے بند کرنے اور ہفتہ اتوار کو مکمل بند کرنے پر دودھ فروش بھی میدان میں آگئے، دودھ فروش کہتے ہیں اربوں روپے کا دودھ شام کے اوقات میں آتا ہے وہ کہاں رکھیں گے،وزیر اعلیٰ پنجاب،کمشنرلاہور اور ڈی سی لاہور سے پابندی سے متعلق نظر ثانی کی استدعا کردی۔

تفصیلات کے مطابق دودھ فروشوں کا کہنا ہے کہ دودھ دو وقت دکانوں پر آتا ہے شام کو آنے والے دودھ کو سنبھالنا مشکل ہوگا،حکومت سے درخواست ہے کہ ہمیں بھی ہوٹلوں کی طرح ٹیک اوے کی اجازت دی جاے اور ہفتہ وار اتوار کو بھی کاروبار کھولنے کی اجازت دی جائے کیونکہ چھٹی والے دن دودھ کدھر جائے.

چیئرمین ملک سیلرز ایسوسی ایشن حاجی فیاض کا کہنا ہے کہ ہمارے کاروبار کی نوعیت کو سمجھا جائے پہلے بھی کورونا ایس او پیز پر عمل درآمدہو رہا ہےمزید کرنے کی کوشش کرے گے، لہٰذا اربوں روپے کا دودھ اور کاروبار بچانے کےلیے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، کمشنر لاہورکیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان اور ڈپٹی کمشنر لاہور مدثرریاض ملک پابندی کے فیصلے پرفوری نظر ثانی کریں.

واضح رہے کہ قبل ازیں حکومت پنجاب نےیکم اپریل سےدکانوں، کریانہ سٹور،جنرل اسٹورز اور دودھ کی دکانوں کا ٹائم ٹیبل صبح نوبجےسے شام پانچ بجے تک کردیا ہے،جس کی وجہ سےدودھ فروش پریشان ہیں،ان کا کہناتھا کہ پانچ بجے دکان بند کرنے سے دودھ خراب ہونےکا خدشہ ہے،شام کو آنےوالے دودھ کوسٹور کرنا مشکل ہے۔

دکانداروں نےاپیل کی کہ حکومت دودھ فروشوں کو رات 8 بجے تک دکان کھلی رکھنےکی اجازت دے،گوالے 5 بجےدودھ لیکرآتے ہیں،فروخت کے لیے ٹائم ملنا چاہیے,شہریوں کا بھی کہنا تھا کہ گوالوں اوردودھ فروشوں کولاک ڈاون میں وقت کی پابندی میں چھوٹ دینی چاہیے۔