سٹی 42: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ دہشت گردی ختم کرنے کیلئے ہم سنجیدہ ہیں، خیبرپختونخوا کے عوام کو اعتماد میں لیے بغیر صوبے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔
الامین ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے درازندہ واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اُنہوں نے کہا کہ جب دہشت گردی ہورہی تھی تو ہم چیخ رہے تھے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی ہورہی ہے، ہم پہلے سے حالات دیکھ رہے تھے، اسی لیے آواز اٹھا رہے تھے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ اس جنگ میں صرف خیبرپختونخوا کے عوام نہیں بلکہ پاک فوج کے جوان بھی شہید ہورہے ہیں، ہمیں امن پیارا ہے ہمیں احساس ہے کہ ہمارے بچے، عورتیں اور جوان شہید ہورہے ہیں، ہمیں اے پی سی نہیں دی جارہی جبکہ ہماری پیمنٹ بھی ہوچکی ہے۔
انہوں نے وفاق سے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا کو جلد اے پی سی دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق سے کہا ہے کہ اپنی اے پی سی ہمیں دے دیں کیونکہ آپ کی اے پی سی ہمارے لیے استعمال ہورہی ہے، جنازے ہم اٹھا رہے ہیں اور ہمارا صوبہ زخمی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ جھوٹے بیانیے سے خیبرپختونخوا کے عوام جانتے ہیں کہ آپ کی حیثیت کیا ہے، ہم بند کمروں کی پالیسی نہیں مانتے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حالات خراب ہیں جو حکومت کے بس کی بات نہیں، دہشت گردی کی لہر میں جو شہید ہوگا اسے شہید پیکج دیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ پاکستان کے خلاف جو بھی اسلحہ اٹھاتا ہے وہ دہشت گرد ہے۔