ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

گوگل کے بعد AI ڈاکٹر بن گیا؟ خود علاج کا نیا رجحان سامنے آگیا

گوگل کے بعد AI ڈاکٹر بن گیا؟ خود علاج کا نیا رجحان سامنے آگیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42:مصنوعی ذہانت (AI) اور سوشل میڈیا سے فوری معلومات حاصل کرنے کا رجحان اب لوگوں کے علاج کے طریقہ کار کو بھی متاثر کرنے لگا ہے، شہری مختلف بیماریوں کی علامات جاننے کے ساتھ ساتھ دواؤں کے استعمال سے متعلق مشورے بھی AI ٹولز اور سوشل میڈیا سے لینے لگے ہیں۔

طبی ماہرین نے اس رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ AI ٹولز بارہا واضح کرتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر کا متبادل نہیں، تاہم بہت سے لوگ اس تنبیہ کو نظر انداز کرکے اپنی علامات کے مطابق دوائیں تجویز کرنے یا پہلے سے استعمال ہونے والی ادویات کے بارے میں فیصلے کرنے لگتے ہیں۔ 

ماہرین کے مطابق کسی بیماری کی علامات بظاہر ایک جیسی ہوسکتی ہیں لیکن ان کی وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں، اس لیے صرف آن لائن معلومات کی بنیاد پر دوا کا انتخاب کرنا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ خاص طور پر ایسی ادویات جن کی خوراک، مضر اثرات یا دوسری دواؤں کے ساتھ تفاعل کا خیال رکھنا ضروری ہو، ان کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر خطرناک ہوسکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر موجود صحت سے متعلق مواد بھی اسی مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے، کیونکہ ہر شخص کی عمر، طبی تاریخ، جسمانی حالت اور بیماری کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ کسی دوسرے شخص کے لیے مفید ثابت ہونے والی دوا یا علاج ضروری نہیں کہ ہر فرد کے لیے محفوظ ہو۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ AI کو صحت سے متعلق عمومی معلومات سمجھنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، تاہم تشخیص، دوا کے انتخاب اور علاج کے فیصلے کے لیے مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

AI کے بڑھتے استعمال کے ساتھ صحت سے متعلق غلط معلومات اور خود علاج کے رجحان نے ماہرین کے لیے ایک نیا چیلنج بھی پیدا کردیا ہے، کیونکہ فوری جواب حاصل کرنے کی سہولت بعض افراد کو طبی ماہر سے رجوع کرنے کے بجائے خود ہی علاج شروع کرنے کی طرف لے جا رہی ہے۔