سٹی 42 : وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی نے سابق شوہر کی جانب سے 11 کروڑ کی مشترکہ جائیداد سے محروم کی گئی خاتون کو اس کا حق دلا دیا۔ خاتون ملیحہ محبوب کے حق میں فیصلے پر سابق شوہر ڈاکٹر شیراز چیمہ کی نظرثانی درخواست بھی نمٹا دی گئی ۔
وفاقی محتسب کے مطابق فریقین کے درمیان 11 کروڑ روپے مالیت کی جائیداد پر دوستانہ تصفیہ ہو گیا۔ جاری کردہ فیصلے میں بتایا گیا کہ آئی ٹی کے شعبہ سے وابستہ ملیحہ محبوب حیدر نے اپنے سابق شوہر کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔ دونوں کی شادی 11 اپریل 2004 کو ہوئی تھی جو 2019 میں خلع کے ذریعے ختم ہوئی۔ شکایت گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ شادی کے دوران دونوں نے اسلام آباد میں مشترکہ طور پر جائیدادیں بنائیں۔ خریدی گئی پراپرٹیز میں سیکٹر ای الیون کا اپارٹمنٹ اور سیکٹر بی سترہ کے تین پلاٹس شامل تھے۔
جاری کردہ فیصلے کے مطابق شکایت کنندہ نے خریداری سے متعلق تمام دستاویزات، معاہدات اور ادائیگیوں کے ثبوت پیش کیے۔ شکایت کنندہ کے سابق شوہر ڈاکٹر شیراز چیمہ بار بار نوٹسز کے باوجود پیش نہ ہوئے، جس پر یکطرفہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ شکایت کنندہ کے سابق شوہر نے فیصلے کے بعد نظرثانی درخواست دی اور فریقین نے تمام تنازعات ختم کرنے پر اتفاق کیا۔ عدالت نے فریقین کے لیے جائیداد کی 11 کروڑ روپے مارکیٹ ویلیو طے کی۔ سیٹلمنٹ پروپوزل بھجوائی گئی جس پر شکایت کنندہ کے سابق شوہر نے کوئی اعتراض نہ کیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ اپارٹمنٹ اور ایک فلیٹ شکایت گزار کو دیا جائے جس کے ٹرانسفر اخراجات وہ خود برداشت کرے۔
ایم پی سی ایچ ایس نے تمام جائیدادوں کی منتقلی مکمل ہونے کی رپورٹ جمع کروا دی۔
آئین پاکستان خواتین کے مساوی جائیداد کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔