ویب ڈیسک : جامعہ پشاور میں کم داخلوں کے باعث 9 شعبے بند کردیے گئے۔
جامعہ پشاور کے اعلامیے کے مطابق رواں سال بی ایس پروگرام میں داخلے کم رہے۔ کم داخلوں کی گونج پنجاب کی بھی کئی یونیورسٹیوں میں سنائی دی گئی مگر یہاں کوئی بھی ڈیپارٹمنٹ بند نہیں ہوا۔ البتہ پشاور سے خبر ٓئی ہے کہ جامعہ پشاور نے کم داخلوں کے باعث نو ڈیپارٹمنٹ بند کردیے ۔
جامعہ پشاور کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بعض شعبوں میں صرف ایک یا 2 طلبہ نے داخلہ لیا، 15 سے کم داخلوں والے شعبہ جات کے انڈر گریجویٹ پروگرامز کو ختم کردیا گیا ہے۔جامعہ پشاور کے اعلامیے میں بتایا گیا کہ شعبہ جیوگرافی، تاریخ، ہوم اکنامکس ، جیالوجی، اسٹیٹسٹکس کو بند کردیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ڈیولپمنٹ اسٹیڈیز، سوشل اینتھروپولوجی، لاجسٹکس اینڈ سپلائی چین اینالیٹکس اور ہیومن ڈیولپمنٹ کے شعبے بھی بند ہونے والوں کی فہرست میں موجود ہیں۔
یونیورسٹی کے مطابق سٹوڈنٹس متبادل اکیڈمک پروگرام کے لیے انتظامیہ سے رجوع کرلیں ۔
واضح رہے یونیورسٹی نے تقریبا 70 شعبہ جات میں داخلے آفر کیے تھے ۔ جس میں سے 9 شعبوں میں داخلے نہیں ہوسکے

سوال یہی اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر ایسی کونسی وجہ ہے کہ ان شعبہ جات میں سٹوڈنٹس عدم دلچسپی دکھا رہے ہیں ۔ کیا جامعہ پشاور کی فیسیں زیادہ ہے جس کی وجہ سے متوسط طبقے یا غریب طبقے سے تعلق رکھنے والا طالب علم داخلہ ہی نہیں لے رہا ۔دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا جن شعبہ جات کو بند کیا گیا ان کی مستقبل میں ضرورت ختم ہوتی جارہی ہے ۔ کیا ان شعبہ جات سے فارغ التحصیل سٹوڈنٹس کو نوکریاں نہیں مل رہیں ۔
نوجوانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی حکومت نے اپنے 13 سالہ دورِ حکومت میں پشاور میں تعلیمی اصلاحات کا نعرہ تو بلند کیا مگر ان کے نعروں کی حقیقت تب بے نقاب ہوئی جب خیبر پختونخواہ کی سب سے بڑی یونیورسٹی میں داخلے نہ ہونے کی وجہ سے 9 شعبے بند ہوگئے ۔