حکومت بلوچستان نے ریاست مخالف پروپیگنڈا اور سرگرمیوں میں ملوث سرکاری ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے تمام کمشنرز اور ضلعی افسران کو احکامات جاری کئےہیں کہ ایسے ملازمین کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے‘ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی فرد تنخواہ سرکار سے لے اور حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرکے اپنی ذاتی رائے کو حکومتی پالیسیوں پر فوقیت دے۔
بلوچستان کے وزیراعلیٰ میرسرفرازبگٹی نے متنبہ کیاہے کہ بلوچستان کے ہر تعلیمی ادارے میں قومی ترانہ لازمی پڑھا جائے گا اور قومی پرچم لہرایاجائےگا۔ ‘جن اداروں کے سربراہان ان احکامات کی تعمیل نہیں کریں گے، انہیں عہدہ چھوڑنا ہوگا۔
سرفراز بگٹی نے واضح کیا، امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہے‘ صوبے میں کوئی شاہراہ بند نہیں ہوگی۔‘ ہر ضلعی افسر اپنے علاقے میں ریاست کی رٹ قائم کرنے کا ذمہ دار ہے۔‘ریاستی احکامات پر عملدرآمد کرنا اور کروانا ہر سرکاری افسر اور اہلکار کی آئینی ذمہ داری ہے۔‘ جو افسر یا ملازم حکومت کی پالیسی کے مطابق کام نہیں کر سکتا وہ رضا کارانہ طور پر عہدہ چھوڑ دے۔
ایک طویل عرصے سے "اسٹیبلشمنٹ کے لیے" کام کرنے والے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے یہ باتیں کرکے اعتراف کرلیا ہے کہ صوبے میں ریاستی اتھارٹی فارغ ہوچکی ہے۔ دہشت گرد ہی نہیں بلکہ سرکاری ملازمین ، طلبہ اور مقامی آبادی کی اکثریت "بے قابو " ہوچکی ہے ۔ موصوف ایک سال سے وزیر اعلی ہیں ۔ اس سے پہلے طویل نگران دور میں وفاقی وزیر داخلہ رہے لیکن کوئی تیر نہیں چلا یا ۔۔۔ یہ توقع کیسے رکھی جاسکتی ہے کہ اب کچھ کرلیں گے ۔
ادھر کے پی کے میں حالات بدترین ہیں ، یہ بات ریکارڈ پر آچکی کہ وزیر اعلیٰ گنڈا پور صوبائی سیکورٹی حکام کو کہہ رہے ہیں کہ وہ ٹی ٹی پی کے ساتھ نہ الجھیں ورنہ دہشت گردوں کے ہاتھوں پی ٹی آئی کا بھی وہی حال ہوگا جو ایک زمانے میں اے این پی اور پیپلز پارٹی کا ہوا تھا ۔
ایک طرف تو امن و امان کی سنگین صورتحال ہے تو دوسری جانب پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت پر دباؤ ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کرے۔ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے درمیان پھنسی ایک ایسی حکومت جو بیک وقت متضاد راستوں پر چل رہی ہو کبھی منزل پر پہنچے گی ؟ اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
اب آجائیں پنجاب حکومت کی جانب؛ جہاں یقیناً دوسرے تمام صوبوں سے زیادہ کام ہورہا ہے لیکن کارکردگی جانچنے کا پیمانہ تو ایک ہی ہے کہ عوام کو کتنا ریلیف مل رہا ہے ۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز نے چند روز قبل جناح ہسپتال کا اچانک دورہ کیا ، بدترین حالات دیکھ کر پرنسپل کو فارغ ، ایم ایس کو معطل کردیا ۔
مریم نواز کی جگہ کوئی بھی ہوتا یہی ایکشن لیتا ، لیکن بات تو درست اطلاعات کی ہے۔ جب وزیر اعلیٰ کو بتایا ہی نہ جارہا ہو کہ حقیقی صورتحال کیا ہے تو وہ ایکشن کیسے کریں ؟
بیورو کریسی ہی نہیں بلکہ بعض وزرا کی بھی پوری کوشش ہے کہ میڈیا پر بھی سچ نہ آنے دیا جائے۔ ہسپتالوں کا ہی نہیں پورے محکمہ صحت کا نظام بگڑ چکا ۔ ایک اہم صوبائی وزیر نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی دیگر لعنتوں کے ساتھ کرپشن کو بھی جڑوں تک پھیلا گئی ہے۔ اب سمیٹنے میں ہمیں بھی مشکلات پیش آرہی ہیں ۔
مطلب کوئی ڈیپارٹمنٹ صحیح طریقے سے کام نہیں کررہا ، حالات یہ ہیں کہ پچھلے دنوں ایک حکومتی رکن نے پنجاب اسمبلی میں انکشاف کیا کہ پولیس میں دو گروپ بن چکے ہیں ۔ عام آدمی تو ہمیشہ ہی تنگ ہوتا ہے لیکن اب اچھے خاصوں کو زچ کیا جارہا ہے ۔
لاہور کی بااثر اور متحرک شخصیت نے فون کرکے کہا فلاں علاقے میں پولیس نے اکیڈمی جانے والے بچوں کو بری طرح سے مارا ہے ،اطلاع ملنے پر والدین موقع پر پہنچے تو ان سے بھی بدتمیزی کی۔ اپنے رپورٹر سے کہہ کر ان کی جان چھڑوا دیں ۔ میں نے حیران ہوکر کہا آپ تو خود کہہ سکتے ہیں۔ انہوں نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کچھ سمجھ نہیں آ رہا، اب ایسے افسر لگا دئیے گئے ہیں کہ ان کو فون کریں یا جاکر ملیں الٹا ناراض ہوجاتے ہیں اور دھمکاتے ہیں کہ آپ نے سفارش کیوں کی ۔ کسی سائل کے ساتھ کیوں آئے ۔
اب آپ خود ہی اندازہ لگا لیں وزیر اعلیٰ نے جس روز تھانوں پر چھاپے مارنے شروع کردئیے تو کیا حال ہوگا !
رہ گیا سندھ تو وہاں وڈیرا راج اور کرپشن کا ننگا ناچ جانے کب سے ہے اور کب تک رہے گا ۔ کسی لمبی چوڑی چارج شیٹ کی ضرورت نہیں۔ صرف نوجوان مصطفیٰ عامر کو دوست کے ہاتھوں بری طرح زخمی کرکے زندہ جلائے جانے کا ایک کیس ہی دیکھ لیں ۔ قاتل ارمغان قریشی شہر کے بیچ میں بیٹھ کر کال سنٹر سمیت غیر قانونی دھندے چلا رہا تھا ۔ ستر ، اسی لڑکے ، لڑکیاں ملازم رکھے ہوئے تھے ۔ گھر میں درجنوں بیش قیمت گاڑیاں کھڑی تھیں ۔ جدید ترین اسلحہ اتنی مقدار میں کہ پورا مسلح لشکر کھڑا کیا جاسکتا تھا ۔ سو کے قریب گارڈ بھی رکھے ہوئے تھے ۔ اس کیس میں منشیات ، منی لانڈرنگ ، فراڈ ، پولیس مقابلے سمیت کئی اور چیزیں بھی سامنے آچکی ہیں ، لیکن کبھی جج اس کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں اور کبھی پولیس ۔ حالیہ پیشی میں پراسیکوشن نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے کیس خراب کرنے کے لیے رپورٹوں میں جان بوجھ کر خامیاں چھوڑ دی ہیں ۔ یقیناً ارمغان اکیلا ہے نہ اس کا گینگ تنہا ۔ سندھ کے بااثر حلقے نہ صرف ان کے پیچھے ہیں بلکہ غالب امکان ہے کہ پارٹنرز بھی ہوں ۔
سندھ شہری اور سماجی مسائل کے ساتھ جرائم کی آماجگاہ بن چکا ۔وفاقی حکومت کی تمام کارگزاریاں اپنی جگہ لیکن دہائیوں پرانا چینی کا مسئلہ آج بھی اسی شدت سے موجود ہونا آشکار کررہا ہے کہ نظام حکومت و انصاف میں موجود بڑی بڑی خامیاں دور نہیں کی آج سکیں-
ایسے میں آرمی چیف اگر یہ کہتے ہیں کہ گورننس میں خامیوں کا خلا سیکورٹی فورسز کے جوان کب تک اپنا خون بہا کر پورا کرتے رہیں گے، تو ٹھیک ہی کہتے ہیں ۔ سوال مگر یہ ہے ایسی تمام خرابیاں ٹھیک کرنے کے لیے ٹھیک ٹھاک ایکشن کس نے لینا ہے ؟عام آدمی کب تک بیڈ گورننس کی چکی میں پیستا رہے گا -