سٹی42: اسرائیل میں عدلیہ کی آزادی کی ضامن آزاد جوڈیشل سلیکشن کمیٹی کو سیاسی حکومتوں کے زیر اثر بنانے کے بل پر ووٹنگ میں کنیست نے اس بل کو منظور کر لیا، اسے نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں کی حکومت کی آزاد عدلیہ کے خلاف کامیابی تصور کیا جا رہا ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ ترمیم جو پارلیمنٹ سے تینوں ریڈنگز میں منطوری لے چکی ہے، آئین میں ترامیم پر جوڈیشل ریویو کا اختیار رکھنے والی سپریم کورٹ عدلیہ کی آزادی پر اس شدید حملہ پر کیسے رسپانڈ کرے گی۔
کنیست نے عدالتی سلیکشن کمیٹی کے میک اپ کو تبدیل کرنے کے لیے انتہائی متنازعہ بل منظور کر لیا ہے، جس سے اسرائیل کے سیاسی اختیارات میں بہت زیادہ اضافہ ہو گا۔
وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں کی طویل کوشش کے بعد آج ہونے والی یہ قانون سازی قانون دان کمیونٹی کے آزاد ادارہ "اسرائیل بار ایسوسی ایشن" کے دو نمائندوں کو اس 9 رکنی جوڈیشل سلیکشن کمیٹی میں ہٹا دے گی، جو تمام عدالتی تقرریاں کرتی ہے۔ نیتن یاہو حکومت کی آئینی ترمیم کے تحت جوڈیشل سلیکشن کمیٹی مین بار کے دو ارکان کی بجائے اور حکومت اور اپوزیشن کا ایک ایک رکن وکیل بیٹھے گا۔ حکومت کو پہلے ہی اس جوڈیشل کمیٹی میں اپنے نمائندے بٹھانے کا اختیار ہے لیکن اس وقت کمیٹی کی کمپوزیشن ایسی ہے کہ صرف عدالتی اور قانون دان کمیونٹی کے ارکان اتفاق رائے کر لیں تو نئے جج کا تقرر ہو جاتا ہے خواہ حکومت اس کی کتنی ہی مخالف ہو۔ جوڈیشل سلیکشن کمیٹی پر حکومت کا اثر نہ ہونے کے سبب اسرائیل کی عدلیہ آزاد ججوں سے بھری ہوئی ہے جن کے فیصلوں سے خاص طور سے نیتن یاہو کی ھکومت کو کئی مرتبہ زک اٹھانا پری کیونکہ وہ نیتن یاہو کی حکومت کے اثر کو قبول نہیں کرتے۔
پہلے نیتن یاہو کی حکومت نے "جوڈیشل ریفارم" کے نام سے عدلیہ کی آزادی کو سلب کرنے کی کوشش کی تو اسرائیل کے عوام قانون دان کمیونٹی اور سول سوسائٹی کے بہت سے لوگ مل کر اس کوشش کی مزاحمت کے لئے سڑکوں پر آ گئے۔ 7 اکتوبر 2023 کو جب حماس نے اسرائیل پر اچانک حملہ کیا، اس وقت نیتن یاہو کی ھکومت کے خلاف تل ابیب اور یروشلم مین اسرائیل کی تاریخ کے سب سے بڑے عوامی احتجاج ہو رہے تھے۔
جنگ کے پندرہ ماہ عملاً خاموش رہنے کے بعد نیتن یاہو کی حکومت نے کچھ ہفتے پہلے یہ کوشش دوبارہ شروع کی کہ ججوں کے تقرر کو اپنے کنٹرول مین لے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے گزشتہ احتجاج کا سبب بننے والی زیادہ یکطرفہ ترامیم کی بجائے نیا پلان یہ بنایا کہ آزاد بار کے دو نمائندوں کو قربان کر کے ان کی خالی کی ہوئی ایک سیٹ اپوزیشن کو دینے کی پیشکش کر دی۔
اب اسرائیلی بار کے دو آزاد نمائندوں کی جگہ ایک وکیل کو براہ راست حکومتی اتحاد اور دوسرے کو اپوزیشن کے ذریعے منتخب کرنے کے لیے منتخب کیا جاتئے گا۔ لیکن یہ سب کچھ مشروط ہے کہ اسرائیل کی سپریم کورٹ عدلیہ کی آزادی کو بلڈوز کرنے والے اس قانون کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے۔
یہ نو رکنی جوڈیشل سلیکشن کمیٹی میں اتحادی، اپوزیشن اور عدلیہ کے سیاسی نمائندوں کو بھی نچلی عدالت کی تقرریوں پر ویٹو کا اختیار دیتی ہے۔ یہ پروویژن موجودہ نظام کے برخلاف ہے جہاں کسی فریق کو ویٹو پاور حاصل نہیں ہے۔ اور یہ اتحاد اور اپوزیشن کو ویٹو دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں تقرریوں کے اہم ترین معاملہ پر کمیٹی مین موجود تین سینئیر ججوں کے اثر و رسوخ کو ختم کرتا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بل، جو صرف اگلی کنیست میں لاگو ہوگا، عدالتی تقرریوں کو سیاسی اثرات اور سیاسی گروہوں کے مفادات سے آلودہ کر دے گا۔
دوسری اور تیسری ریڈنگ میں حتمی ووٹوں سے پہلے بل پر بحث رات بھر جاری رہی، اپوزیشن کی جانب سے قانون سازی کے خلاف دائر کیے گئے بے مثال 71,023 اعتراضات کی وجہ سے یہ بحث بہت طویل ثابت ہوئی۔
اپوزیشن نے اس متنازعہ بل پر حتمی ووٹوں کا بائیکاٹ کیا، اتحاد کے ووٹ کے ساتھ ہی MKs نے پلینم چھوڑ دیا۔
اس خبر کا بیشتر مواد دی ٹائمز آف اسرائیل کی سٹوری سے لیا گیا۔