لاہور ہائیکورٹ کا صحافی اظہار الحق کو رہا کرنے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ کا صحافی اظہار الحق کو رہا کرنے کا حکم

ملک ا‌شرف: لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان اور پرویز مشرف پر تنقید کے الزام میں گرفتار صحافی اظہار الحق واحد کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں دو لاکه کے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیدیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس مجاہد مستقیم نے صحافی اظہار الحق کی درخواست ضمانت پر سماعت کی، صحافی اظہار الحق کی طرف سے میاں دائود ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور مئوقف اختیار کیا کہ ان دنوں میں پرویز مشرف اور حکومت پر تنقید کرنیوالے صحافیوں کو دهمکیاں دی جا رہی تهیں، صحافی اظہار الحق نے بهی عمران خان اور پرویز مشرف تنقید کی اور صرف میڈیا کو خوفزدہ کرنے کیلئے صحافی پر جنوری میں جهوٹا مقدمہ درج کیا گیا۔

وکیل نے نشاندہی کی کہ تین ماہ گزر گئے، ایف آئی اے صحافی کے موبائل اور کمپیوٹر کا فرانزک نہیں کرا سکا جبکہ قانون کہتا ہے کہ تفتیش اور چالان نامکمل ہو تو ملزم ضمانت کا حقدار ہے۔

ایف آئی اے کے تفتیشی افسر محمد عثمان نے کہا کہ ملزم سے ابهی بہت تفتیش کرنا باقی ہے، ضمانت کا حقدار نہیں، جس پر مسٹر جسٹس مجاہد مستقیم نے ریمارکس دیئے کہ صحافی کو قید میں رکهنا ہے تو تفتیش اور چالان میں کوئی پیشرفت تو بتائیں، کارکردگی آپکی زیرو ہے اور ضمانت کی درخواستوں کی مخالفت کرتے پهرتے ہیں، بادی النظر میں بغاوت پر اکسانے کا الزام بنتا ہی نہیں تها، بغاوت پر اکسانے کی دفعہ 505 لگانے کیلئے مجاز اتهارٹی کی مظوری اور ضابطہ فوجداری کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے، جس پر میاں دائود ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہمارا کیس بهی یہی ہے کہ حکومت اور مشرف پر تنقید بغاوت کے زمرے میں نہیں آتی، اگر صحافی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید نہیں کرینگے تو پهر آزاد صحافت کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے۔

عدالت نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد صحافی اظہار الحق کی 2 لاکه روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔