ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

صرف ڈی این اے کافی نہیں, لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ اور انصاف کے اعلیٰ معیار کی ایک مثال

ملک اشرف

صرف ڈی این اے کافی نہیں, لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ اور انصاف کے اعلیٰ معیار کی ایک مثال
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

فوجداری مقدمات، خصوصاً ریپ جیسے حساس نوعیت کے کیسز میں، عدالتوں کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوتا ہے کہ ایک طرف متاثرہ فرد کو انصاف فراہم کیا جائے اور دوسری طرف کسی بے گناہ شخص کو ناکافی یا کمزور شواہد کی بنیاد پر سزا نہ دی جائے، یہی وہ نازک توازن ہے جس پر قانون اور انصاف کی پوری عمارت قائم ہے۔

 لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد امجد رفیق پر مشتمل دو رکنی بینچ کی جانب سے ریپ اور مبینہ جعلی شادی کے مقدمے میں دیا گیا حالیہ تفصیلی فیصلہ اسی بنیادی اصول کی یاد دہانی کراتا ہے، عدالت نے قرار دیا کہ صرف ڈی این اے رپورٹ کی بنیاد پر سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی، کیونکہ ڈی این اے ایک اہم سائنسی شہادت ضرور ہے، مگر اس کا قانونی کردار دیگر شواہد کے ساتھ مل کر دیکھا جاتا ہے۔ اگر مجموعی شواہد شک سے بالاتر معیار پر پورا نہ اتریں تو فوجداری قانون سزا دینے کی اجازت نہیں دیتا۔

 یہ فیصلہ دراصل کسی ایک مقدمے تک محدود نہیں بلکہ فوجداری نظامِ انصاف کے اس بنیادی اصول کی توثیق کرتا ہے کہ جرم کا الزام استغاثہ کو شک سے بالاتر ہو کر ثابت کرنا ہوتا ہے، اگر شواہد میں معقول شبہ باقی رہ جائے تو اس کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے، یہی اصول دنیا کے تقریباً تمام مہذب قانونی نظاموں کی بنیاد ہے۔

 عدالت نے مقدمے کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے صرف ڈی این اے رپورٹ پر انحصار نہیں کیا بلکہ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر، متاثرہ خاتون کے بیانات میں تضادات، میڈیکل رپورٹ، دیگر حالات و واقعات اور پورے ریکارڈ کو ایک ساتھ پرکھا، عدالت نے واضح کیا کہ انصاف صرف ایک شہادت دیکھ کر نہیں بلکہ تمام دستیاب مواد کو مجموعی طور پر جانچنے سے ہوتا ہے۔
فیصلے میں یہ اہم قانونی اصول بھی بیان کیا گیا کہ فیملی کورٹ کی جانب سے نکاح کو کالعدم قرار دیے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ ریپ کا جرم خود بخود ثابت ہو گیا، خاندانی اور فوجداری قوانین کے دائرہ کار الگ ہیں، اس لیے رضامندی کے سوال کا جائزہ فوجداری عدالت آزادانہ طور پر لینے کی پابند ہے۔

 یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس میں عدالت نے ڈی این اے شواہد کی اہمیت کو کم نہیں کیا بلکہ اس کا درست قانونی مقام واضح کیا، جدید سائنس انصاف کی معاون ضرور ہے، لیکن انصاف کا مکمل متبادل نہیں، اگر کسی ایک شہادت کو باقی تمام شواہد سے الگ کر کے فیصلہ کیا جائے تو انصاف کے تقاضے متاثر ہو سکتے ہیں۔

 جسٹس محمد امجد رفیق کے عدالتی فیصلوں کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ صرف نتیجہ بیان نہیں کرتے بلکہ اپنے فیصلوں میں متعلقہ قوانین، عدالتی نظائر اور قانونی اصولوں کی مفصل وضاحت بھی کرتے ہیں، ان کے متعدد فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہر مقدمے میں ریکارڈ، شواہد اور قانونی نکات کا تفصیلی جائزہ لینے کو اہمیت دیتے ہیں اور فیصلے کی وجوہات کو واضح انداز میں تحریر کرتے ہیں۔ یہی انداز ان کے فیصلوں کو قانونی حلقوں میں قابلِ مطالعہ اور حوالہ جات کے طور پر اہم بناتا ہے۔

 اس مقدمے میں بھی عدالت نے جذبات یا قیاس آرائی کے بجائے صرف قانونی معیار کو بنیاد بنایا، یہی ایک غیر جانبدار عدالت کی پہچان ہے کہ وہ ہر مقدمے کا فیصلہ شواہد اور قانون کی روشنی میں کرتی ہے، نہ کہ عوامی دباؤ یا جذباتی ماحول کے تحت۔

 اس فیصلے کا سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ انصاف صرف سزا دینے کا نام نہیں بلکہ صحیح شخص کو سزا دینا اور بے گناہ کو تحفظ فراہم کرنا بھی انصاف کا لازمی تقاضا ہے، جب عدالتیں اس معیار کو برقرار رکھتی ہیں تو عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوتا ہے۔

 لاہور ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ نہ صرف فوجداری قانون کی درست تشریح پیش کرتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ جدید سائنسی شواہد کو قانونی اصولوں کے ساتھ متوازن انداز میں دیکھتے ہوئے انصاف کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اور ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہی ہے۔