ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ہائیکورٹ ، بغیر یونیفارم پیش ہونے پر قائم مقام ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن اظہر اکرم پر برہم 

ہائیکورٹ ، بغیر یونیفارم پیش ہونے پر قائم مقام ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن اظہر اکرم پر برہم 
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

لاہور ہائیکورٹ نے بغیر یونیفارم پیش ہونے پر قائم مقام ایڈیشنل آئی جی اظہر اکرم پر اظہار ناراضگی کیا ،عدالت کا ایس پی انویسٹیگیشن سدرہ خان کے  گزشتہ روز پیش نہ ہونے پر بھی  اظہار برہمی  کیا ،قائم مقام ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن تسلی بخش جواب نہ دے سکے ،  عدالت سے معافیاں مانگتے رہے ۔

 جسٹس محمد طارق ندیم، نصیر احمد سمیت دیگر ملزمان کی عبوری  درخواست ضمانت پر سماعت کی، قائم مقام ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن  اظہر اکرم ، ایس پی انویسٹیگیشن اقبال ٹاؤن سدرہ خان پیش  ہوئے ،جسٹس محمد طارق ندیم نے  قائم مقام ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن اظہر اکرم سے استفسار کیا آپ نے تو پولیس یونیفارم کیوں  نہیں پہنی ، آپ کو تو پولیس کے ڈریس میں  عدالت آنا چائیے تھا ،  قائم مقام ایڈیشنل آئی جی اظہر اکرم نے جواب دیا  انویسٹیگیشن   پنجاب میں تعینات ہوں ، اس لیے پولیس  رولز کے مطابق یونیفارم سے استثنی حاصل ہے ،   جسٹس محمد طارق ندیم نے قائم مقام ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا 
لگ نہیں رہا جیسے آپ کہہ رہے ہیں،آئی جی سمیت دیگر تمام افسران پولیس یونیفارم میں  پیش ہوتے ہیں ،  بلایا تو آپ کو  کسی اور مقصد کے لئے تھا ،اب معاملہ  اور بھی سامنے آگیا ہے،پولیس میں کوئی  ڈسپلن بھی  ہوتا ہے، ججز بھی ہائیکورٹ میں گاؤن  پہن کر عدالت میں بیٹھتے ہیں ،  اگر بغیر پولیس یونیفارم پیش  یا ڈیوٹی  کی اجازت ہے ، یا ہمیں رولز سکھا دیں ، اگر ایڈیشنل آئی جی کو پولیس یونیفارم کو استنعی ہے تو باقی پولیس کو بھی ہونا چائیے ، جسٹس محمد طارق ندیم کے ریمارکس پر قائم مقام ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن اظہر اکرم نے عدالت سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ وہ یونیفارم سے استثنی کے متعلق پولیس رولز دوبارہ دیکھ لیتے ہیں ، جسٹس طارق ندیم نے ایس پی سدرہ خان پر بھی اظہار ناراضگی کرتے ہوئے ریمارکس دئیے عدالت نے تفتیش مکمل کرنے کا حکم دیا ،تفتیش مکمل کی ، نہ عدالت آنا پسند کیا ،،ڈی ایس پی نے گزشتہ روز بتایا کہ  ایس پی صاحبہ کی طبعیت ناساز ہے، عدالت نے  ایس پی صاحبہ کو گزشتہ روز شوکاز نوٹس جاری کیا ، جب شوکاز نوٹس کا آرڈر کیا تو ایس پی صاحبہ تشریف لے آئیں ، اگر  خاتون  ایس پی  کی طبعیت اتنی خراب تھی  تو  پھر گزشتہ روز کیسے عدالت آگئیں ، خاتون ایس پی نے نہ تفتیش مکمل کی نہ تشریف لائیں، ،ایس پی صاحبہ نے تو جواب دینا بھی پسند نہیں کیا ،خواتین کا معاشرے میں عزت ہے ، اس لئے اس کے  خلاف ڈائریکٹ  آرڈر نہیں کیا ، عدالت ،عدالت کی اجازت سے ایس پی سدرہ خان نے پولیس تفتیش کے متعلق بتایا ،عدالت نے فریقین کے وکلاء کا موقف سننے کے بعد دو ملزمان کی عبوری ضمانت خارج باقی  ملزمان کی منظور کرلیں۔

Ansa Awais

Content Writer