شہزاد خان ابدالی: وال سٹی میں لاک ڈائون کا تیسرا روز، وال سٹی کے مکین اور تاجر پنجاب حکومت کی بوکھلاہٹ پر سیخ پا،مکین اور تاجر کہتے ہیں کہ بزدار سرکار نے متاثرہ گلیاں اور محلے سیل کرنے کے بجائے پورے علاقے کو سیل کرکے بزنس کا بیڑا بھی غرق کردیا۔
شہر کے دیگر علاقوں کیطرح وال سٹی میں لاک ڈائون کا تیسرا روز بھی گزرگیا۔ وال سٹی کے دروازے اور مارکیٹیں بدستور سیل ہیں، اندرون سٹی کے مکین اور تاجر پنجاب حکومت کی بوکھلاہٹ پر شدید غم وغصے سے دوچار ہیں،مکینوں نے سٹی فورٹی ٹو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کورونا سے متاثرہ گلیاں محلے سیل کرنے کے بجائے سزا پورے اندرون شہر کو دیدی۔
اندرون شہر کے تاجروں نے بھی پنجاب حکومت کے وال سٹی کو مکمل سیل کرنے کے فیصلے کو غیر دانشمندانہ فیصلہ قرار دیا ہے تاجربرادری کہتی ہے کہ روزانہ کے حساب سے اربوں روپے کی مد میں نقصان ہورہا ہے اور 50 ہزار سے زائد مزدوروں کا روزگار چھن گیا ہے، کیا پنجاب حکومت نے ان مزدوروں کے گھروں میں معلوم کیا کہ کیا حالات ہیں۔
اندرون شہر کےمکینوں اور تاجر برادری نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب حکومت کے وال سٹی بند کرنے کے احمقانہ فیصلے کو واپس لیا جائے اور اندرون شہر کو کھولا جائے۔
شہر کے لاک ڈاؤن سے مستثنیٰ علاقوں میں 14 روز کے دوران ساڑھے 16 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے،حکومت کی جانب سے شہر کے سات علاقوں کو کسی منطق اور سائنٹیفک بنیاد کے بغیر ہی لاک ڈاؤن کر دیا گیا، گلبرگ، ماڈل ٹاؤن، فیصل ٹاؤن، گارڈن ٹاؤن، ڈی ایچ اے، گلشن راوی اور اندرون شہر کو لاک ڈاؤن کیا گیا ہے لیکن ان علاقوں میں 14 روز کے دوران کورونا کے 1973 ء کیسز رپورٹ ہوئے لیکن اسی عرصہ کے دوران شہر کے دیگر علاقوں میں ساڑھے 16 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے لیکن ان علاقوں کو لاک ڈاؤن میں شامل نہیں کیا گیا، جن سات علاقوں کو لاک ڈاؤن کیا گیا ان میں کورونا وبا کے دوران مجموعی طور پر 3613 مریض سامنے آئے ہیں لیکن شہر کے لاک ڈاؤن سے مستثنیٰ دیگر علاقوں میں مجموعی طور پر ساڑھے 33 ہزار مریض رپورٹ ہوچکے ہیں۔