ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں شہریوں کو بیرون ملک سفر سے روکنے اور امیگریشن حکام کی جانب سے مسافروں کو آف لوڈ کرنے کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت , عدالت نے امیگریشن حکام کے اختیارات پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے آئندہ سماعت پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل فار پاکستان کو طلب کر لیا.
جسٹس راحیل کامران شیخ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آخر کس قانون کے تحت شہریوں کو آف لوڈ کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر وفاقی حکومت کا لاء افسر عدالت کو تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ اگر کسی شہری کے پاس ویزا اور دیگر ضروری سفری دستاویزات موجود ہوں تو اسے بیرون ملک جانے سے روکنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ اس پر جسٹس راحیل کامران شیخ نے ریمارکس دیے کہ اگر ویزا مل گیا ہو اور باقی دستاویزات بھی مکمل ہوں تو کسی شہری کو آف لوڈ کیسے کیا جا سکتا ہے۔وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ قانون میں ایسی کوئی شق انہیں نہیں ملی اور وہ اس معاملے پر عدالت کے ساتھ ہیں۔ اس پر عدالت نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ عدالت کے ساتھ ہیں تو پھر حکومت کو کس کے رحم و کرم پر چھوڑ رہے ہیں۔ عدالت نے مزید کہا کہ حکومت کا بھی واضح مؤقف سامنے آنا چاہیے۔جسٹس راحیل کامران شیخ نے ریمارکس دیے کہ جہاں شہریوں کے بنیادی حقوق کا معاملہ ہو وہاں حکومت کے اختیارات بھی قانون کے مطابق واضح ہونے چاہئیں۔ عدالت کو شہریوں کے حقوق اور حکومت کے اختیار کے درمیان توازن کو بھی مدنظر رکھنا ہے اور اس حوالے سے حکومت کی جانب سے مزید معاونت کی ضرورت ہے۔
سماعت کے دوران اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض شہری وزٹ ویزا پر بیرون ملک جا کر کام کی غرض سے رک جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ڈی پورٹ ہونے پر ملک کی بدنامی ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بعض درخواست گزاروں کے پاس نہ ہوٹل بکنگ ہوتی ہے اور نہ ہی اخراجات کے لیے مناسب رقم۔عدالت نے اس پر ریمارکس دیے کہ نیت جتنی بھی اچھی ہو، اگر قانون اجازت نہ دیتا ہو تو ایسا اقدام درست نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے امیگریشن حکام کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اختیارات کو قانون کی روشنی میں واضح کریں۔جسٹس راحیل کامران شیخ نے مزید ریمارکس دیے کہ سمندر پار پاکستانی ملک کے لیے زرِ مبادلہ بھیجتے ہیں اور ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔
عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل فار پاکستان کو طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔