ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں ہتک عزت قانون 2024 کے خلاف دائر آئینی درخواستوں پر اہم سماعت ہوئی، جس کے بعد عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
سنگل بینچ نے کیس کی سماعت کی جسٹس کی سربراہی میں ہوئی، جس میں سینئر صحافی رانا عظیم اور دیگر درخواست گزاروں کی جانب سے دائر درخواستوں پر کارروائی کی گئی۔پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سعد غازی عدالت میں پیش ہوئے اور درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں سنگل بینچ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتیں اور ان پر سماعت یا تو چیف جسٹس خود کریں یا پھر لارجر بینچ تشکیل دیا جائے۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سعد غازی نے مزید کہا کہ چیف جسٹس کے احکامات پر اس قانون کے تحت پہلے ہی ٹریبونلز تشکیل دیے جا چکے ہیں۔
لاء افسر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار وکلاء پہلے بھی یہ موقف اختیار کر چکے ہیں کہ اس قانون کے تحت ہائی کورٹ کے ججز کو استثنی حاصل ہے، تاہم یہ اعتراض قابلِ قبول نہیں۔ چیف جسٹس کی مشاورت سے ٹریبونلز کی تشکیل ہو چکی ہے، اس لیے ججز کی آزادی سے متعلق اعتراض درست نہیں۔
پنجاب حکومت کے لاء افسر نے کہا کہ درخواستوں میں اہم قانونی نکات شامل ہیں لاء افسر نے استدعا کی کہ کیس کی سماعت کے لئے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے۔
دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے تمام فریقین کا موقف سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔