(ویب ڈیسک) ایران نے امریکہ کو آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ ختم کرنے کا ایک نیا آفر دیا ہے۔ اس نئے آفر میں جوہری پروگرام کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ ’ ایکسیوس (Axios) کے مطابق اس آفر کا مقصد بات چیت میں موجودہ تعطل کو ختم کرنا اور ایرانی قیادت کے اندر جوہری مراعات کے دائرۂ کار کے بارے میں جاری مبینہ عدم اتفاق کو نظر انداز کرنا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مسئلے کو بات چیت کے آئندہ مرحلے کیلئے ٹال دیا گیا ہے۔ تازہ رپورٹ میں ایک امریکی افسر اور معاملے سے وابستہ 2 ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ ’ ایکسیوس‘ کے مطابق اس آفر کا مقصد بات چیت میں موجودہ تعطل کو ختم کرنا اور ایرانی قیادت کے اندر جوہری مراعات کے دائرۂ کار کے بارے میں جاری مبینہ عدم اتفاق کو نظر انداز کرنا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’اگر ناکہ بندی ہٹائی جاتی ہے اور پوری طرح حملے ختم ہوجاتے ہیں تو یورینیم افزودگی کے اسٹاک کو ہٹانے اور مستقبل میں افزودگی روکنے کے حوالے سے ایران کے ساتھ کسی بھی بات چیت میں صدر ٹرمپ کا اثر ختم ہوجائے گا۔ ٹرمپ کا ایران پر حملہ کرنے کا یہی مقصد رہا ہے۔
اس دوران 3 امریکی افسران کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر آج اپنی اعلیٰ قومی اور خارجہ پالیسی ٹیم کے ساتھ لڑائی پر ’سچویشن روم‘ میٹنگ کرسکتے ہیں۔ ذرائع نے ’ ایکسیوس‘ کو بتایا کہ ٹرمپ کی ٹیم بات چیت میں رکاوٹ اور اگلے ممکنہ اقدامات پر بات کرے گی۔