ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سرکاری ہسپتالوں میں وبائی امراض ،ادویات و علاج سے متعلق کیس کی سماعت، رپورٹ طلب

سرکاری ہسپتالوں میں وبائی امراض ،ادویات و علاج سے متعلق کیس کی سماعت، رپورٹ طلب
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں سرکاری ہسپتالوں میں وبائی امراض، ادویات اور علاج کی سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے وینٹیلیٹرز کی دستیابی اور منکی پاکس کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتے ہوئے آئندہ سماعت پر مزید تفصیلی رپورٹس طلب کر لیں۔

جسٹس ملک محمد اویس خالد نے جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی جانب سے اسپیشل سیکرٹری نے پنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں وینٹیلیٹرز کی تعداد سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی۔رپورٹ کے مطابق اس وقت پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں مجموعی طور پر 1785 وینٹیلیٹرز فعال ہیں۔ لاہور کے بڑے ہسپتالوں میں میو ہسپتال میں 134، سروسز ہسپتال میں 82، چلڈرن ہسپتال میں 122، جناح ہسپتال میں 76، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) میں 60، گنگا رام ہسپتال میں 79 جبکہ لاہور جنرل ہسپتال میں 78 وینٹیلیٹرز فعال ہونے کی نشاندہی کی گئی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سرکاری ہسپتالوں کے لیے 200 مزید وینٹیلیٹرز کی خریداری کی جا چکی ہے جبکہ جنوبی پنجاب کے ہسپتالوں کو 48 وینٹیلیٹرز فراہم کیے گئے ہیں۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مریضوں کی تعداد کے مقابلے میں وینٹیلیٹرز کی تعداد ناکافی ہے۔عدالت نے اس موقع پر اسپیشل سیکرٹری ہیلتھ سے استفسار کیا کہ آیا حکومت مزید وینٹیلیٹرز خرید رہی ہے یا نہیں، جس پر بتایا گیا کہ حکومت سرکاری ہسپتالوں کے لیے مزید 400 وینٹیلیٹرز خریدنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر اس حوالے سے مکمل تفصیلات پیش کی جائیں۔

دوران سماعت عدالت نے منکی پاکس کے حوالے سے بھی اہم سوالات اٹھائے اور استفسار کیا کہ اس وقت پنجاب میں منکی پاکس کے کتنے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، اس مرض کے علاج کے لیے کون سی ادویات دستیاب ہیں، اور حکومت نے اس حوالے سے کیا حفاظتی اقدامات اور آگاہی مہم شروع کی ہے۔ عدالت نے یہ بھی  استفسار  کیا کہ آیا منکی پاکس کے مریضوں کے لیے علیحدہ آئسولیشن وارڈز قائم کیے گئے ہیں یا نہیں۔عدالت نے آئندہ سماعت پر محکمہ پاپولیشن ہیلتھ کے ذمہ دار سینئر افسر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے تمام متعلقہ تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 4 مئی تک ملتوی کر دی۔

Ansa Awais

Content Writer