ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  بیروت میں حزب اللہ کا السحہ کا گودام تباہ، ڈرون اٹیک میں کمانڈر مارا گیا

Israeli strikes on Southern Beirut , IDF, Hezbollah, Labonen ceasefire, General Josef Aoun, Netanyahu
کیپشن: لبنانی ریسکیورز 27 اپریل 2025 کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں انخلاء کے احکامات کے بعد اسرائیلی حملے کی زد میں آنے والی جگہ پر لگی آگ کو بجھا رہے ہیں۔ (اے ایف پی)
  بیروت میں حزب اللہ کا السحہ کا گودام تباہ، ڈرون اٹیک میں کمانڈر مارا گیا
Israeli strikes on Southern Beirut , IDF, Hezbollah, Labonen ceasefire, General Josef Aoun, Netanyahu
  بیروت میں حزب اللہ کا السحہ کا گودام تباہ، ڈرون اٹیک میں کمانڈر مارا گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: بیروت میں اسرائیل کے ڈرون حملے میں حزب اللہ کا ایک کمانڈر مارا گیا۔ اس سے پہلے اسرائیل نے جنوبی بیروت مین ایک عمارت پر بمباری کی جس سے اسلحہ کا ایک ذخیرہ تباہ ہو گیا۔
 اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ آئی اے ایف کے حملے میں حزب اللہ کے ایک اسلحہ کے  گودام کو نشانہ بنایا  گیا جہاں بھاری اسلحہ موجود تھا۔

دوسری جانب اسرائیل نے   ڈرون حملے میں حزب اللہ کے کمانڈر کو مارنےکا دعویٰ کیا ہے۔

لبنان کی حکومت کا بیروت میں حملوں پر حتجاج

لبنان کے صدر جوزف عون نے امریکا اور فرانس سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی نہ کرے۔

جوزف عون کا کہنا تھا کہ جنگ بندی معاہدے کے ضامن ہونے کے ناطے امریکا اور فرانس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں۔ جنگ بندی کے بعد اسرائیل نے آج تیسری مرتبہ بیروت شہر میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

لبنانی صدر نے کہا کہ اسرائیل لبنان کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچا کر کشیدگی میں اضافہ کر رہا ہے۔

آج شام بیروت میں کیا ہوا

اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز بیروت کے جنوبی مضافات میں حزب اللہ کے میزائلوں کے ایک گودام پر حملہ کیا تھا اور  ایک اور حملے میں ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ  کے ایک کارکن کو جنوبی لبنان میں ایک ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا تھا۔

فوری طور پر بیروت کے  جنوبی علاقے میں عمارت پر ہونے والے تباہ کن ہوائی حملے میں جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے،  یہ حملہ اسرائیلی فوج کی جانب سے مکینوں کو انخلا کے لیے انتباہ کے بعد سامنے آیا۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ لبنانی دارالحکومت میں ذخیرہ کیے گئے میزائل "اسرائیل کے لیے ایک اہم خطرہ ہیں۔"

"اسرائیل لبنان میں کہیں بھی حزب اللہ کو مضبوط ہونے اور اس کے لیے کسی بھی قسم کا خطرہ پیدا نہیں ہونے دے گا"۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کو – جو تاریخی طور پر حزب اللہ کا گڑھ ہے – کو دہشت گرد گروہ کی پناہ گاہ کے طور پر کام کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ "ان خطرات کو روکنے کی براہ راست ذمہ داری لبنانی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔"

Caption aآج 27 اپریل 2025 کو بیروت، لبنان کے جنوبی مضافاتی علاقے دحیہ پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے۔

بیروت پر جنگ بندی کے بعد تیسرا حملہ

آج جنوبی بیروت مین ہونے والی ائیر سٹرائیک لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ اسرائیل کی جنگ بندی کے بعد تیسرا حملہ تھی۔

پچھلے حملے 28 مارچ کو ہوئے تھے، جب اسرائیل نے شمالی اسرائیل پر لبنان سے دو راکٹ داغے جانے کے بعد  جوابی کارروائی کی تھی۔  اور یکم اپریل کو، جب ایک غیر اعلانیہ حملے میں حزب اللہ کے یونٹ 3900 کے رکن حسن بدیر سمیت چار افراد ہلاک ہوئے تھے  کن کے متعلق اسرائیل کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور کی ایلیٹ قدس فورس کے رکن تھے۔

آج اتوار  کو دن کے اوائل میں X کو ایک پوسٹ میں، IDF کے عربی زبان کے ترجمان، کرنل Avichay Adraee نے ایک نقشہ شائع کیا جس میں جنوبی بیروت کی ایک عمارت کا محل وقوع دکھایا گیا تھا، اور شہریوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے اس سے کم از کم 300 میٹر (984 فٹ) باہر نکل جائیں۔

انہوں نے کہا کہ نقشے اور اس سے ملحقہ عمارتوں کے مطابق سرخ رنگ میں نشان زدہ عمارت میں موجود ہر شخص کے لیے: آپ حزب اللہ کی تنصیبات کے قریب موجود ہیں۔

ڈرون اٹیک

لبنان کی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی ڈرون حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔ مقامی میڈیا نے بتایا کہ یہ شخص اپنے چکن فارم پر کام کرتے ہوئے ہلاک ہوا۔

نومبر 2024 کی جنگ بندی نے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان تقریباً دو ماہ کی کھلی جنگ سمیت ایک سال سے زیادہ کی لڑائی کا خاتمہ کیا لیکن جنگ بندی پر تسلسل کے ساتھ عملدرآمد اب تک نہیں ہو پایا۔

حزب اللہ اور اسرائیل کی لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب 8 اکتوبر 2023 کو  حزب اللہ نے حماس کی حمایت میں یہودی ریاست پر راکٹ اور ڈرون برسانے کا آغاز کیا، سات اکتوبر کو حماس نے اسرائیل کے اندر گھس کر  حملے کئے تھے جن میں سینکڑوں افراد مارے گئے اور دو سو اکاون کو حماس کے کارکن اغوا کر کے غزہ لے گئے تھے۔