سٹی42: دنیا کا امیر ترین بھکاری امیر ترین ملک امریکہ کا نہیں بلکہ بھارت نکلا۔
لوگوں کو سڑک پر بھیک مانگتے دیکھنا ایک ناخوشگوار سائٹ ہے جو آپ کے دل کو جھنجوڑ سکتی ہے لیکن بعض اوقات آپ کو بیک وقت بے بس بھی کر دیتی ہے۔ شہ سرخیوں میں ماضی میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح پڑھے لکھے لوگ بھی روزگار کی کمی اور دیگر مسائل کی وجہ سے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ لیکن، کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک ہندوستانی شخص ہے جو دنیا کے امیر ترین بھکاریوں میں شمار ہوتا ہے! ایک حیرت انگیز امیر بھکاری۔
بھارت کےساحلی انڈسٹریل شہر ممبئی کا بھکاری جس کا نام بھارت جین ہے وہ بھیک مانگ مانگ کر جو کچھ کماتا ہے سارا جمع کر لیتا ہے، چالیس سال بھیک مانگ مانگ کر وہ دولت کا ڈھیر اکٹھا کر چکا ہے ۔ وہ اپنی دولت سے عام کاروباری لوگوں کی طرح انویسٹمنٹ کرتا ہے اور مزید کماتا ہے لیکن چونکہ بھکاری ذہنیت کا مالک ہے اس لئے مانگنا بند نہیں کرتا۔
بھارت کے دنیا کا سب سے برڑا بھکاری ہونے کا انکشاف بھارتی میڈیا نے ہی کیا ہے، گو کہ اس دعوے کو فوبز جیسے دولت کا تخمینہ لگانے والے کسی ادارہ نے اب تک ویریفائی نہیں کیا لیکن بھارت کا میڈیا خوشی کے ساتھ یہ بتا رہا ہے کہ دنیا کا سب سے امیر بھکاری بھارت ہی ہے۔
بھارت کی ایک نیوز ویب سائٹ نے لکھا، یہ بھارتی شخص بھارت جین دنیا کا امیر ترین بھکاری ہے، 1.4 کروڑ روپے کا فلیٹ ہے، بچے کانونٹ اسکول میں پڑھتے ہیں، خود اچھی رہائش گاہ میں رہتا ہے، یہ بھارتی بھکاری ایک تاجر بھی ہے لیکن سڑکوں پر اپنا کام چھوڑنا نہیں چاہتا۔
بھارت جین کی کہانی دولت کمانے کے روایتی تصورات کو چیلنج کرتی ہے اور بتاتی ہے ے کہ مستقل مزاجی سے بھیک مانگ مانگ کر بھی دولت مند بنا جا سکتا ہے۔
54 سالہ بھارت پچھلے 40 سالوں سے بھیک مانگ رہا ہے۔ وہ کام کا ناغہ نہیں کرتا، بیمار ہو تب بھی مانگنے نکل پڑتا ہے ، اس کا کہنا ہے کہ بیماری کی حالت میں اسے زیادہ بھیک ملتی ہے تو وہ بیماری کی چھٹی کیسے کرے۔

اس بھیک مانگنے سے بھارت کی روزانہ آمدنی تقریباً 2,000 سے 2,500 بھارتی روپے ( 8200 پاکستانی روپے) ہوتی ہے جو تہواروں کے دنوں میں مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس طرح بھارت کی ماہانہ آمدنی 60,000 سے 75,000 بھارتی روپے بن جاتی ہے۔ وہ دن میں صرف دس بارہ گھنٹے مانگنے پر صرف کرتا ہے، دیہاڑی لگا کر واپس جا کر آرام کرتا ہے یا کاروبار کرنے نکل پڑتا ہے۔
بھارت نے اپنی آمدنی کو سمجھداری سے استعمال کرتے ہوئے سرمایہ کاری کی۔بھکاری بھارت نے ممبئی میں دو فلیٹ، جن کی مالیت تقریباً 1.4 بھارتی کروڑ روپے ہے، خریدے۔
بھارت نے بھیک کی کمائی سے دو دوکانیں بھی خریدیں اور یہ دونوں دوکانیں کرائے پر چڑھائیں جن سے بھارت کو ماہانہ 30,000 روپے کرایہ حاصل ہوتا ہے۔
بھارت تمام پیسے والوں کی طرح شادی شدہ ہے، بھارت کے دو بیٹے دولت مندوں کے بچوں کی طرح مہنگے اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔
بھارت کا باپ بھائی ، اس کے بیٹے اور بیوی سبھی چاہتے ہیں کہ بھارت اب بھیک مانگنا چھوڑ دے لیکن بھارت کہتا ہے کہ وہ جیتے جی بھیک مانگنا نہیں چھوڑے گا بلکہ بوڑھا ہونے پر اسے یقین ہے کہ اور زیادہ بھیک ملا کرے گی۔
اس ہندوستانی آدمی کی حیرت انگیز دولت صرف بھیک مانگنے کی صنعت کی وسعت اور اس جالے کی حقیقتوں کو سامنے لانے کے لیے نکلتی ہے۔ وہ شخص جس کو امیر ترین بھکاری کہا جاتا ہے وہ نوکری کی تلاش کے بجائے بھیک مانگنے میں آرام دہ ہو گیا ہے۔ اس کا نام بھرت جین ہے۔