حفیظ سنٹربند،تاجروں کا ایک اور بڑا نقصان

 حفیظ سنٹربند،تاجروں کا ایک اور بڑا نقصان

(سٹی42)سانحہ حفیظ سنٹر پیش آئے ایک ہفتہ سے زیادہ دن گزر گئے، شہر میں کاروبار کی خریدوفروخت کا مرکزی گڑھ سمجھا جانے والا علاقہ آتشزدگی سے اس قدر متاثر ہوا کہ سب راکھ کا ڈھیر بن گیا،افسوسناک سانحہ کے بعد حفیظ سنٹر کو بند کردیا گیا جس پر تاجروں کو ایک اور بڑے نقصان کا سامنا ہے۔

تفصیلات کےمطابق لاہور میں ہونے والے لرزہ خیزواقعات میں سےحفیظ سنٹر آتشزدگی کا سانحہ کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا، تاجروں کی عمر بھر کی جمع پونچی ان کی آنکھوں کے سامنے دیکھتے ہی دیکھتے راکھ میں بدل گئی، بے بسی کے عالم میں آبدیدہ کاروباری حضرات سوائے آنسو بہانے کے کچھ نہ کرسکے کیونکہ آگ کی شدت اس قدر شدت اختیار کرچکی تھی جس کو قابو کرنا ان کے بس سے باہر تھا۔ واقعہ کے بعد حفیظ سنٹر کی عمارت اس قابل نہیں رہی تھی کہ دوبارہ کاروباری سرگرمیاں شروع کی جائیں، حکومت نے اقدامات کرتے اس کو بند کردیا اور تاجروں کو نقصانات کے ازالے کی یقینی دہانی کرائی۔

بڑے سانحے کو گزرے ایک ہفتہ سے زائد دن ہوگئے  جس کے باعث تاجروں کا ایک اور بڑا نقصان ہورہا، حفیظ سنٹر کے تاجروں کو تجارت کی مد میں ڈیڑھ ارب روپے مزید نقصان کا سامنا ہے، حفیظ سنٹر میں روزانہ 15 سے 20 کروڑ روپے روزانہ کا کاروبار ہوتا تھا، صدر ملک کلیم احمد کا کہناتھا کہ حفیظ سنٹر کی عمارت قابل استعمال ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے رپورٹ 2 نومبر کو دی جائے گی۔ رپورٹ ملنے کے بعد تاجر پلازہ کی ازخود بحالی کا کام کرایئں گے۔

صدر حفیظ سنٹر ملک کلیم نے کہا کہسانحہ حفیظ سنٹر میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں تاجر برادری کا بھاری نقصان ہوا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق تاجروں کا ڈیڑھ ارب سے 2 ارب روپے تک کا سامان جل کر خاکستر ہوگیا۔ہفتہ کے روز بھی تاجروں کی اکثریت متاثرہ دکانوں میں بچ جانے والا سامان دیگر پلازوں میں منتقل کرتے رہے۔ تاجروں نے کہا کہ پنجاب حکومت حفیظ سنٹر کی بحالی اور مالی مدد کرے ۔کم شرح سود پر قرض دیئے جائیں تاکہ متاثرہ تاجر ایک مرتبہ پھر اپنے کاروبار کا آغاز کرسکیں۔

واضح رہے کہ لگنے والی آگ نے 400 سو سے زائد دکانوں، اربوں روپے اور دیگر قیمتی سامان کو خاکستربنادیا گیاتھا، آگ دوسری منزل پر ایک موبائل، کمپوٹر اور لیپ ٹاپ کی دکان تھی جہاں ریپیرنگ اور خریدو فروخت کا کام کیا جاتا تھا اس دکان کے اندر شاٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگی،جس نے دیکھتے ہی اردگرد کی دکانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیاتھا۔