العزیزیہ ریفرنس کیس، میاں نواز شریف کی عبوری ضمانت منظور


( سٹی 42 ) اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس  کیس کی سماعت کرتے ہوئے نواز شریف کی عبوری ضمانت منگل تک منظور کرلی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا معطلی اور ضمانت کی درخواست منظور کرلی۔ منگل تک عبوری ضمانت مل گئی، وفاق  پنجاب اور نیب نے ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا، عدالت نے واضح موقف اپنانے کی استدعا کی لیکن حکومت کی جانب سے ہچکچاہٹ رہی۔

شہبازشریف کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی جس میں میاں نوازشریف کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلے سنانے کی استدعا کی گئی، چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ سزا یافتہ قیدی کو صوبائی حکومت ریلیف دے سکتی ہے، یہ معاملات عدالت میں نہیں آنے چاہئیں۔

اس موقع پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نیب،  پنجاب حکومت اور نیب کے نمائندوں کو حکم دیا کہ وہ واضح طور پر احکامات لیں کہ وہ ضمانت کے خلاف ہیں یا نہیں، جس پر تین بار مقدمے کی سماعت میں وقفہ ہوا، چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ نے حکومت کے نمائندے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کہتے تو درخواست خارج کر دیتے ہیں، آپ مخالفت کرتے ہیں تو ذمہ داری آپ کی ہوگی وزیراعلیٰ پنجاب کو طلب کر لیتے ہیں۔ وفاقی حکومت کی یہ حالت ہے کہ ان کا اپنا بورڈ ہے مگر ذمہ داری نہیں لے رہے، اگر آپ ذمہ داری نہیں لے رہے تو کچھ خرابی ہے۔

کیس کی سماعت کے دوران سیکرٹری داخلہ پنجاب کا کہنا تھا کہ طبی بنیاد پر دائر درخواست کی ذمہ داری ہم نہیں لے سکتے، ہم نوازشریف کی صحت کی ذمہ داری نہیں لیتے، آپ میرٹ پر فیصلہ کریں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کورٹ کے ساتھ سیاست نا کھیلی جائے۔ اگر نواز شریف کو کچھ ہو جاتا ہے تو آپ ذمہ دار ہونگے۔ عدالت نے میاں نوازشریف کی سزا معطلی کیس میں منگل تک عبوری ضمانت منظور کرلی جبکہ وفاق،  پنجاب اور نیب نے ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔

نواز شریف کے ضمانتی مچلکے جمع کرا دیے گئے

ن لیگی رہنما سخی عباسی اور عامر شہزاد خان نے نوازشریف کے ضمانتی مچلکے جمع کرائے، مریم اورنگزیب کہتی ہیں حکومت نے انتہائی بے حسی کا مظاہرہ کیا، بیگم کلثوم نواز کی بیماری کا تمسخر اڑایا گیا اب بھی یہ ہی رویہ ہے۔

سماعت سے پہلے ہی میاں نوازشریف کے پرانے ساتھی، سخی عباس ضمانتی مچلکے لے کر عدالت پہنچے، اس سے پہلے بھی وہ نوازشریف کی مختلف مقدمات میں ضامن رہ چکے ہیں، عدالتی حکم آتے ہیں سخی عباس اور عامر شہزاد نے ضمانتی مچلکے جمع کرا دیئے۔ فیصلہ آتے ہی ن لیگی کارکنوں نے خوب جشن منایا اور اس موقع پر مٹھیائیاں تقسیم کی گئیں اور حکومت کے خلاف بھی نعرے بازی ہوئی۔

اس موقع پر مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت کا رویہ آپ سب لوگوں کے سامنے ہے، چیف جسٹس نے دو مرتبہ سماعت ملتوی کرکے کہا کہ بتائیں لکھ کر دے دیں لیکن حکومت نے انتہائی بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے۔ طارق فضل چودھری نے کہا کہ نوازشریف کے معالج کو ان سے جان بوجھ کر دور رکھا گیا، پوری قوم دیکھ رہی ہے کہ یہ کیسی سیاست کررہے ہیں۔ بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ جان بوجھ کر نوازشریف کو جیل سے نیب لے جایا گیا، انشااللہ انصاف کا بول بالا ہوگا۔

العزیزیہ ریفرنس کیس، نوازشریف کی رہائی کی روبکار جاری 

اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس کیس میں نواز شریف کی طبعی بنیادوں پر عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے بیس بیس لاکھ کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔ ن لیگی رہنما سخی عباسی اور عامر شہزاد خان نے نوازشریف کے ضمانتی مچلکے جمع کرائے، جس پر روبکار جاری کی گئی۔ روبکار سپرنٹنڈنٹ جیل کوٹ لکھپت کے نام کورئیر کے ذریعے جاری کی گئی، روبکار ملتے ہی نواز شریف ضمانت پر رہا ہوجائیں گے۔