ملک اشرف : پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 کیخلاف دائر مختلف درخواستوں پر سماعت، لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کے وکیل کے بیان کی بنیاد پر نمٹا دیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ نیا لوکل گورنمنٹ قانون آ چکا ہے، اس لیے سابقہ ایکٹ کیخلاف دائر درخواستیں غیر مؤثر ہو چکی ہیں۔
جسٹس شجاعت علی خان نے سائل کرنل ریٹائرڈ مبشر جاوید اور سمیع اللہ کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران فریقین کے وکلا نے اپنے دلائل پیش کیے۔درخواستگزارکرنل ریٹائرڈ مبشر جاوید کی جانب سے ڈاکٹر خالد رانجھا ایڈووکیٹ پیش ہوئے، جبکہ پنجاب حکومت کی نمائندگی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل رانا شمشاد احمد نے کی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے عمران عارف رانجھا نے پیش ہو کر مؤقف پیش کیا۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ پنجاب میں نیا لوکل گورنمنٹ ایکٹ نافذ ہو چکا ہے اور اسی نئے قانون کے تحت ہی بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہوگا۔ سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ قانونی پوزیشن تبدیل ہو چکی ہے، اس لیے درخواستیں اب غیر مؤثر ہو چکی ہیں۔