علی رامے: سرکاری رپورٹ میں پنجاب کی معیشت سے متعلق اہم حقائق سامنے آئے ہیں جس کے مطابق صوبے کی معاشی ترقی میں سست روی دیکھی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2017 سے 2023 کے دوران سروسز سیکٹر کا حصہ 62 فیصد سے کم ہو کر 59 فیصد رہ گیا ہے، جو اس شعبے کی کمزور کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے۔
اسی طرح صنعتی شعبہ گزشتہ کئی برسوں سے جمود کا شکار ہے اور اس کا حصہ 17 سے 18 فیصد کے درمیان محدود رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صنعتی ترقی کی رفتار توقعات کے مطابق نہیں رہی جبکہ سروسز اور صنعت کی سست روی کے باعث زرعی شعبے کا حصہ نسبتاً بڑھ گیا ہے۔ زرعی شعبے کا حصہ 21 فیصد سے بڑھ کر 23 فیصد جبکہ حجم کے اعتبار سے یہ 24 فیصد تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زرعی شعبے نے مجموعی معاشی سرگرمیوں میں نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔
یہ انکشاف پنجاب گروتھ سٹریٹجی رپورٹ 2023 میں کیا گیا ہے جس میں معاشی ڈھانچے میں تبدیلیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پائیدار معاشی استحکام کے لیے صنعت، تجارت اور خدمات کے شعبوں کی بحالی ناگزیر ہے۔