ویب ڈیسک :ٹیکنالوجی کی دنیا میں بڑھتے اخراجات اب براہِ راست صارفین تک پہنچنے لگے ہیں اور ایپل نے اپنے متعدد معروف ڈیوائسز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ نئی نسل کی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے جڑے تقاضوں نے پیداواری لاگت کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایپل نے میک بک، آئی پیڈ، میک اسٹوڈیو، میک منی، ہوم پوڈ اور ایپل ٹی وی سمیت کئی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، جس کے بعد یہ ڈیوائسز پہلے کے مقابلے میں زیادہ مہنگی ہو گئی ہیں۔ بعض مصنوعات کی قیمتوں میں 15 سے 25 فیصد تک اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اس تبدیلی کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت پر مبنی فیچرز کے لیے درکار زیادہ طاقتور پروسیسرز، اضافی میموری اور تیز رفتار اسٹوریج ہے۔ عالمی سطح پر ڈیٹا سینٹرز اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے انہی اجزاء کی طلب بڑھنے سے سپلائی دباؤ کا شکار ہوئی، جس کے نتیجے میں چِپس اور میموری کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی۔
ایپل کا کہنا ہے کہ وہ صرف ہارڈویئر فروخت نہیں کرتا بلکہ ایک ایسا مکمل نظام فراہم کرتا ہے جس میں جدید سافٹ ویئر، تحقیق اور مستقبل کی ٹیکنالوجی بھی شامل ہوتی ہے، اسی لیے مصنوعات کو مزید پریمیم انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔
صنعتی ماہرین کے مطابق یہ صرف وقتی رجحان نہیں بلکہ آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والی ڈیوائسز کی بڑھتی ضروریات صارفین کے لیے ٹیکنالوجی مصنوعات کو مزید مہنگا بنا سکتی ہیں۔