ویب ڈیسک :امریکہ نے الیکٹرک گاڑیوں کی معروف کمپنی پولی اسٹار کو 2027 کے ماڈل سال سے امریکی مارکیٹ میں گاڑیاں فروخت کرنے سے روک دیا ہے، جس کے بعد عالمی آٹو انڈسٹری میں ہلچل مچ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ امریکی محکمہ تجارت کی جانب سے “کنیکٹڈ وہیکلز رول” کے تحت کیا گیا ہے، جس کے مطابق چین سے منسلک ٹیکنالوجی رکھنے والی گاڑیوں کی درآمد اور فروخت پر سخت پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں،حکام کا مؤقف ہے کہ جدید گاڑیوں میں موجود وائی فائی، بلوٹوتھ اور سیلولر کنیکٹیویٹی جیسے فیچرز کے ذریعے ڈیٹا سیکیورٹی سے متعلق خدشات پیدا ہوتے ہیں۔
پولی اسٹار، جو چین کی گیلی ہولڈنگ کے زیرِ ملکیت ہے، نے تصدیق کی ہے کہ اسے امریکی حکام کی جانب سے فروخت کی اجازت نہیں ملی، تاہم کمپنی نے واضح کیا ہے کہ وہ موجودہ پولی اسٹار 3 اور پولی اسٹار 4 ماڈلز کی فروخت اور سروس نیٹ ورک کو جاری رکھے گی۔
کمپنی کے مطابق یہ پابندی 2027 کے ماڈل سال سے لاگو ہوگی، جبکہ پولی اسٹار نے اس فیصلے کے خلاف اپیل نہ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولی اسٹار کی امریکی مارکیٹ میں فروخت پہلے ہی محدود تھی اور کمپنی کی مجموعی پہلی سہ ماہی فروخت کا صرف 6 فیصد امریکہ سے آتا تھا، جبکہ زیادہ تر آمدنی یورپی مارکیٹ سے حاصل ہو رہی تھی۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے نہ صرف پولی اسٹار بلکہ دیگر چینی یا چینی ملکیت والی آٹو کمپنیوں پر بھی دباؤ بڑھے گا، کیونکہ امریکہ اپنی مقامی آٹو انڈسٹری اور ڈیٹا سیکیورٹی پالیسی کو مزید سخت کر رہا ہے۔
ادھر پولی اسٹار نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے یورپی مارکیٹ کو مرکزی ہدف بنانے کا اعلان کیا ہے اور آئندہ ماڈلز کی تیاری بھی یورپ میں کرنے کا منصوبہ ہے۔
آٹو انڈسٹری ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی اور ٹیکنالوجی جنگ میں ایک اور بڑا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔