ملک اشرف : پنجاب حکومت کا 165 برس پرانے تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری میں ترمیم کرنے کا فیصلہ ,سائبر کرائم، دہشتگری، خواتین، بچوں، امن و امان کے متعلق قوانین میں ترامیم کیلئے بھی تجاویز طلب کرلیں ۔
پنجاب حکومت کی جانب سے قوانین میں اصلاحات لانے کیلئے لاء ریفارمز کمیٹی قائم کردی گئی ہے،ذہین اور قانون پر گرفت رکھنے والے ڈی آئی جی کامران عادل 6 رکنی کمیٹی کے سربراہ مقرر مقرر کئے گئے ہیں،کمیٹی پنجاب میں خواتین اور بچوں کے تحفظ کے قوانین میں ترمیم تجویز کرے گی ،کمیٹی 127 برس پرانے ضابطہ فوجداری میں بھی ترامیم تجویز کرے گی۔
قانون شہادت آرڈر 1984میں ترامیم تجویز کرنا بھی کمیٹی کی ذمہ داریوں میں شامل ہے،کمیٹی قانون کے نفاذ، جرائم کی روک تھام کے لئے بھی سفارشات تیار کرے گی ، کمیٹی امن عامہ کی بحالی سے متعلق قانون سازی کے لیے قانونی اصلاحات کی سفارش کرے گی ،کمیٹی انسداد دہشت گردی، سائبر کرائم، سائبر سیکیورٹی سے متعلق ترامیم کے لئے تجاویز دے گی ۔
،کمیٹی نیشنل سیکیورٹی قانون کے متعلق بھی ڈرافٹ تیار کرے گی ،کمیٹی بین الصوبائی رابطہ سے متعلق قوانین میں ترامیم کی تجویز بھی دے گی ،کمیٹی قوانین کوجدید سماجی و سیاسی پیش رفت سے ہم آہنگ کرنے کے متعلق سفارشات دے گی ،کمیٹی جرائم پر قابو پانے کے طریقوں کو مزید بہتر کرنے کے لئے تجاویز بھی دے گی ،کمیٹی قوانین میں اصلاحات کے متعلق اپنی سفارشات 3 ماہ میں محکمہ داخلہ کو پیش کرے گی۔