جنوبی ایشیا اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، جہاں معمولی واقعات بھی بڑے تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں،حالیہ پہلگام واقعہ نے ایک بار پھر بھارتی ریاستی اداروں کی بدنیتی، جھوٹے بیانیے، اور پاکستان مخالف حکمت عملی کو بے نقاب کر دیا ہے اور بھارتی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہاں سچ بولنے، اختلاف رائے رکھنے اور بنیادی حقوق کا مطالبہ کرنے والے کشمیریوں کو ریاستی ظلم اور جبر کا سامنا ہے۔
اس واقعے کے بعد جو ایف آئی آر درج کی گئی، وہ نہ صرف قانونی لحاظ سے مبہم اور سوال طلب ہے بلکہ اس کے ذریعے ایک مخصوص بیانیے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی جس کا مقصد واضح طور پر پاکستان کو اس واقعے سے جوڑ کر عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنا تھا،حیرت انگیز طور پر واقعے کے صرف5منٹ بعد ہی بھارتی خفیہ ادارے ''را'' سے منسلک جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا شروع ہو چکا تھا جو اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ یہ صرف ایک سکیورٹی واقعہ نہیں بلکہ ایک طے شدہ منصوبہ تھا جس کے ذریعے نہ صرف کشمیریوں کی آواز دبائی جائے بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کیا جائے۔
ان ہی حالات کے تناظر میں جموں جیل میں قید 2 پاکستانی شہریوں کو اچانک کسی نامعلوم مقام پر منتقل کیے جانے کی خبریں بھی منظرِ عام پر آئیں جس نے تشویش کی ایک نئی لہر دوڑا دی، یہ قدم اس خدشے کو جنم دیتا ہے کہ ان شہریوں کو ماورائے عدالت جعلی مقابلوں کے نام پر قتل کیا جا سکتا ہے جیسا کہ ماضی میں سینکڑوں کشمیری نوجوانوں کے ساتھ ہو چکا ہے،ان جعلی انکاؤنٹرز کی داستانیں صرف کشمیر کی سرزمین تک محدود نہیں رہیں بلکہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی متعدد بار ان پر آواز بلند کی ہے،بھارت میں اسرائیلی فوجیوں کی آمد کی اطلاعات اور دفاعی تعاون کا بڑھتا ہوا رجحان بھی موجودہ صورتحال کو ایک نئے تناظر میں لے آتا ہے،اسرائیل سے حاصل کردہ جدید ہتھیار، ڈرونز اور انٹیلی جنس سسٹمز کو مقبوضہ کشمیر میں استعمال کیا جا رہا ہے جس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان ایک ایسا عسکری گٹھ جوڑ وجود میں آ چکا ہے جس کا براہ راست ہدف مسلمان آبادی اور مزاحمتی تحریکیں ہیں،یہ اشتراک کسی نظری قیاس پر نہیں بلکہ دونوں ممالک کی زمینی پالیسیوں پر مبنی حقیقت ہے،مزاحمت کو کچلنے کی یہ پالیسیاں صرف عسکری حدود تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع تر ریاستی حکمت عملی کا حصہ ہیں جس میں اظہارِ رائے کی آزادی، احتجاج کا حق اور بنیادی انسانی حقوق کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے، کشمیر میں نہتے نوجوانوں کو محض سوشل میڈیا پوسٹس یا نعرے لگانے کی پاداش میں گرفتار کر کے برسوں تک جیلوں میں رکھا جاتا ہے اور ان کے خلاف ایسے مقدمات درج کیے جاتے ہیں جن کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہوتی۔
اس ظلم و جبر کی فضا میں بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کا خطرہ بھی سر اٹھا رہا ہے اگر بھارت پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں کا پانی روکنے کی کوشش کرتا ہے، تو اس سے نہ صرف پاکستان کی زراعت بلکہ پورے ماحولیاتی نظام کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، یہ کوئی بعید از قیاس معاملہ نہیں بلکہ اس کی بازگشت کئی بار مختلف عالمی فورمز پر سنائی دے چکی ہے۔ بھارت کی اس حکمتِ عملی کو علاقائی تنازعے کی شکل اختیار کرنے سے پہلے روکنا بین الاقوامی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے،اسی اثنا میں بھارت نے پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل کر کے دونوں ممالک کے لاکھوں شہریوں کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کی قیادت نہ صرف سیاسی طور پر انتہا پسندی کی راہ پر گامزن ہے بلکہ معاشی پہلوؤں کو بھی جنگی حکمت عملی کا حصہ بنانے پر تلی ہوئی ہے،تجارتی بندش نہ صرف معیشت کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ سفارتی محاذ پر بھی کشیدگی کو بڑھاتی ہے جس سے خطے کا امن خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک بھی کسی سے پوشیدہ نہیں،مساجد کی بے حرمتی، مسلم علاقوں میں فسادات، اور امتیازی قوانین کے نفاذ نے بھارت کو جمہوری کی بجائے ایک مذہبی بالادستی پر مبنی ریاست میں تبدیل کر دیا ہے،یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا انسانی حقوق کے تحفظ کا علم بلند کیے ہوئے ہے مگر بھارت کی یہ پالیسیاں اس دعوے کے بالکل برعکس ہیں،اس کشیدگی کا ایک اور پہلو فضائی حدود کی بندش کی صورت میں سامنے آیا ہے جو صرف2 ممالک کے درمیان نہیں بلکہ بین الاقوامی پروازوں پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے،اسی طرح شملہ معاہدے کی معطلی ایک اور افسوسناک پہلو ہے جو ماضی میں مسئلہ کشمیر کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے ایک مشترکہ عزم کا مظہر تھا۔
اس معاہدے کی خلاف ورزی کا مطلب ہے کہ بھارت کسی بھی معاہدے یا مذاکراتی عمل کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا،ان حالات کے پیشِ نظر پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس اور اس میں کیے گئے فیصلے وقت کی اہم ضرورت تھے، پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے دفاع کیلئے ہمہ وقت تیار ہے بلکہ عالمی سطح پر کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے اور بھارتی مظالم کا پردہ چاک کرنے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں بھی جاری رکھے گا،یہ وقت صرف مذمت یا تشویش کے اظہار کا نہیں بلکہ بین الاقوامی برادری کے عملی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے،اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھارت کو جوابدہ بنانا ہوگا، کیونکہ خاموشی اور غفلت مزید ظلم کو تقویت دے گی، دنیا کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جمہوری اقدار کے ساتھ کھڑی ہے یا ظلم و جبر کے ساتھ۔ساتھ ہی، یہ لمحہ پاکستانی قوم اور کشمیری عوام کے لیے بھی یکجہتی، قربانی اور ہوشیاری کا تقاضا کرتا ہے۔ دشمن نے ہر محاذ پر یلغار کی ہے، ایسے میں ہماری قومی یکجہتی، اتحاد اور بصیرت ہی وہ ہتھیار ہیں جو نہ صرف ہمارے دفاع کی ضمانت بن سکتے ہیں بلکہ مظلوم کشمیریوں کی امید بھی۔ ہمیں اپنے حصے کی شمع جلانی ہے، اپنی آواز بلند کرنی ہے اور ہر ممکن پلیٹ فارم پر سچ کا پرچم تھامے رکھنا ہے، کیونکہ یہی ہماری قومی شناخت اور تاریخ کا تقاضا ہے۔