ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سندھ حکومت کا ’فیک نیوز ‘کی روک تھام کیلئے این سی سی آئی سے مدد لینے کا فیصلہ

سندھ حکومت کا ’فیک نیوز ‘کی روک تھام کیلئے این سی سی آئی سے مدد لینے کا فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 عاجز جمالی: سندھ حکومت نے فیک نیوز اور گمراہ کن اطلاعات کی روک تھام کیلئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سے معاونت لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اس حوالے سے سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت محکمہ اطلاعات کا اہم اجلاس منعقد ہوا,اجلاس میں سیکریٹری اطلاعات کاشف گلزار شیخ، ڈائریکٹر جنرل اطلاعات معز پیرزادہ اور محکمہ اطلاعات کے تمام شعبوں کے ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔

شرجیل انعام میمن نے سیکریٹری اطلاعات اور محکمہ اطلاعات کے تمام شعبوں کے ڈائریکٹرز کو فیک نیوز کی مؤثر مانیٹرنگ اور جامع میڈیا حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹی اور گمراہ کن اطلاعات کے ذریعے کسی بھی شخص یا ادارے کو نقصان پہنچانے کی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے ہدایت کی کہ فیک نیوز اور گمراہ کن اطلاعات کی روک تھام کیلئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سے معاونت حاصل کی جائے، جبکہ مین اسٹریم اور سوشل میڈیا پر جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے روزانہ کی بنیاد پر فیک نیوز کی مانیٹرنگ کی جائے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ فیک نیوز کی نشاندہی، تصدیق اور بروقت تدارک کیلئے محکمہ اطلاعات میں مؤثر مانیٹرنگ کا نظام وضع کیا جائے گا، جبکہ فیک نیوز کے تدارک کیلئے محکمہ اطلاعات اور این سی سی آئی اے کے درمیان تعاون مزید بڑھایا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فیک نیوز بنانے اور پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کیلئے بھی این سی سی آئی اے سے معاونت حاصل کی جائے گی۔

سینئر وزیر سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کا بیانیہ امن، رواداری، بین الصوبائی ہم آہنگی اور قومی اتحاد پر مبنی ہے، جسے مزید مؤثر اور مضبوط بنانے کیلئے اضافی اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے ہدایت کی کہ محکمہ اطلاعات سندھ حکومت کے مثبت اور تعمیری بیانیے کو اجاگر کرنے کیلئے جدید ذرائع ابلاغ سے بھرپور استفادہ کرے اور تمام طبقات کے نمائندوں کو سندھ حکومت کے بیانیے کا حصہ بنایا جائے۔

شرجیل انعام میمن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ محکمہ اطلاعات فیک نیوز کی مانیٹرنگ کے ساتھ ساتھ سندھ حکومت کے مثبت بیانیے کی مؤثر ترویج پر بھی خصوصی توجہ دے۔