ویب ڈیسک : مودی حکومت کی ہٹ دھرمی کے باعث ہزاروں سکھ بابا گرونانک کے جنم دن تقریبات میں حاضری سے محروم ہوگئے
بھارت کی مودی حکومت نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سکھوں کو کرتار پور آنے سے روک دیا۔بھارتی حکومت کے فیصلے کے باعث ہزاروں سکھ بابا گرو نانک کی برسی کے بعد ان کے جنم دن کی تقریبات میں حاضری سے بھی محروم رہ جائیں گے۔
سکھ برادری نے دلی سرکار کے فیصلے کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے دیا جبکہ بھارتی صحافیوں نے بھی اسے مودی سرکار کا دوغلا پن قرار دے دیا۔ اس سے قبل بھی سکھ خالصتان کا نعرہ لگا کر مودی سرکار کے مظالم کو بے نقاب کرچکے ہیں اورہندوستان سے الگ ہونے کا مطالبہ کرچکے ہیں ۔ سکھوں کی نفرت ابھی کم نہ ہوئی تھی کہ مودی سرکار نے ایک بار پھر سکھوں کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے انہیں مذہبی عبادات اور ان کے گرو کی سالگرہ تقریبات پر جانے سے روک دیا
بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ بھارتی حکومت کا عجیب دوہرا معیار ہے، پاکستانی اداکاروں کی فلم ریلیز نہیں کرتے، لیکن بھارتی ٹیم پاکستانی ٹیم سے میچ کھیلتی ہےاور ہاتھ بھی نہیں ملاتی۔انہوں نے کہا کہ دوسری طرف سکھوں کو کرتار پور جانے کی اجازت نہیں دی جاتی، بھارتی حکومت اپنے فائدے کے لیے اور پیسہ کمانے کے لیے سارے کام کرتی ہے