ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سیلاب کی تباہ کاریاں: راستے بحالی کا عمل سست، متاثرین کو گھر واپسی میں مشکلات کا سامنا

سیلاب کی تباہ کاریاں: راستے بحالی کا عمل سست، متاثرین کو گھر واپسی میں مشکلات کا سامنا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: پنجاب میں تاریخ کے بدترین سیلاب کے اثرات اب تک مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکے۔ کئی علاقوں میں تاحال پانی کھڑا ہے جس کے باعث بحالی کے کاموں میں تاخیر ہو رہی ہے اور متاثرہ افراد کو گھروں کو واپس جانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ احمد پور شرقیہ اور اوچ شریف میں سینکڑوں گھر تباہ ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں پانی میں ڈوب چکی ہیں۔ باغات، تعلیمی ادارے، سڑکیں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

اگرچہ پانی کی سطح میں کچھ کمی آئی ہے، تاہم متاثرہ علاقوں میں جگہ جگہ پڑے شگاف اب تک بند نہیں کیے جا سکے۔ راستے بند ہونے کے باعث متاثرین کی واپسی ممکن نہیں ہو رہی اور روزمرہ ضروریات کی اشیاء تک رسائی بھی دشوار ہو گئی ہے۔ کئی متاثرین مویشیوں کے لیے چارے کی قلت کا شکار ہیں، جبکہ جن کے مکانات منہدم ہو چکے ہیں وہ ٹینٹ نہ ملنے کے باعث کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ متاثرین نے خوراک، راشن اور جانوروں کے لیے ونڈا و چارہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب دریائے سندھ میں کوٹری بیراج پر درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال بدستور قائم ہے۔ پانی کی آمد میں اضافہ ہوا ہے اور بہاؤ 4 لاکھ 7 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔ ٹھٹھہ میں یار محمد منچھر سمیت کئی کچے کے دیہات زیر آب آ گئے ہیں، جس کے باعث مقامی افراد نے قریبی بندوں کی طرف نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ کئی لوگ اب بھی حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔

نواب شاہ اور مٹیاری میں بھی کچے کے علاقے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ہالہ کے دیہاتوں سے لوگ کشتیوں کے ذریعے اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات کی طرف جا رہے ہیں۔ گڈو اور سکھر بیراج پر پانی کے بہاؤ میں بتدریج کمی آ رہی ہے، تاہم صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔

پنجاب میں دریاؤں کی مجموعی صورتحال نسبتاً بہتر ہو چکی ہے۔ جلال پور پیر والا میں سیلابی پانی کے اترنے کے بعد 5 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ کبیر والا میں دریائے راوی اور چناب کے پانی کا دباؤ کم ہوا ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق، دریائے ستلج میں بھی کئی ہفتوں بعد پانی کا زور ٹوٹ گیا ہے۔ گنڈا سنگھ والا اور ہیڈ سلیمانکی پر پانی کا بہاؤ معمول پر آ چکا ہے، جبکہ صرف ہیڈ اسلام پر نچلے درجے کا سیلاب باقی ہے اور یہاں بھی پانی کی سطح میں کمی واقع ہو رہی ہے۔