ملک اشرف:لاہور ہائیکورٹ نے آٹزم سے متاثرہ بچوں کے نان و نفقہ سے متعلق خصوصی معیار مقرر کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے گریڈ 21 کے افسر نور الامین مینگل اور ان کی سابقہ اہلیہ عنبرین سردار کی اپیلوں پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
جسٹس عابد حسین چٹھہ نے دونوں فریقین کی رٹ پٹیشنز پر فیصلہ سناتے ہوئے فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھنے کا حکم دیا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ خصوصی بچوں کی نگہداشت اور طبی اخراجات عام بچوں سے مختلف ہوتے ہیں، خصوصاً جب بچہ آٹزم جیسے عارضے میں مبتلا ہو۔ عدالت نے نور الامین مینگل کی جانب سے بیٹی ایلیا نور کے ماہانہ خرچے میں کمی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے اپیلٹ کورٹ کا ایک لاکھ روپے ماہانہ خرچہ مقرر کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ گریڈ 21 کے سرکاری افسر اپنی مالی حیثیت کے مطابق بیٹی کے اخراجات برداشت کرنے کے پابند ہیں جبکہ بچی کی طبی ضروریات عام بچوں جیسی نہیں ہیں۔
عدالت نے سابقہ اہلیہ عنبرین سردار کی جانب سے ماضی کے نان و نفقہ اور ڈلیوری اخراجات کی ادائیگی سے متعلق اپیل بھی خارج کر دی۔ عدالتی متن کے مطابق طلاق کے بعد عنبرین سردار اے ٹی ایم کے ذریعے باقاعدگی سے خرچہ وصول کرتی رہی ہیں، لہٰذا وہ صرف عدت کی مدت کے لیے یکمشت 90 ہزار روپے خرچے کی حقدار ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ فیملی عدالتوں نے شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد فیصلے کیے اور آئینی دائرہ اختیار میں مداخلت کی ضرورت نہیں۔