ویب ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیشِ نظر بھارتی سرکاری آئل کمپنیوں نے ایک بار پھر عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈال دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مئی کے مہینے میں چوتھی مرتبہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا، جس کے تحت پیٹرول 2.61 بھارتی روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 2.71 روپے فی لیٹر مہنگا کردیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ہونے والے مالی نقصانات پورے کرنے کیلئے قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔
نئے اضافے کے بعد نئی دہلی میں پیٹرول کی قیمت 102.12 بھارتی روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 95.20 بھارتی روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 15 مئی کے بعد سے اب تک پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر تقریباً 7.8 فیصد جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 8.6 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں اور ایران سے جڑی علاقائی کشیدگی کے باعث عالمی تیل سپلائی متاثر ہوئی، جس کا براہِ راست اثر بھارت جیسے بڑے درآمدی ممالک پر پڑ رہا ہے۔
بھارتی حکومت نے بڑھتے درآمدی اخراجات اور تیل کی کھپت کم کرنے کیلئے مختلف کفایت شعاری اقدامات پر بھی عمل شروع کردیا ہے۔